خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 933 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 933

خطبات طاہر جلد 13 933 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 دسمبر 1994ء اور چیخوں کی آواز میں ان سے پیدا ہوتی ہیں اور پھر ایک موقع پر آکر ان کے معاملات رک جاتے ہیں اور روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں پوری نہیں ہو سکتی اقتصادی مشین کے پیسے چلتے چلتے Jam ہو جاتے ہیں۔جام ہونا اردو محاورہ ہے انگریزی میں "جیم ہو گئے لیکن اردو میں جام لفظ چلتا ہے آج کل۔وہ جام ہو گئے یعنی پکڑے گئے خشکی کی وجہ سے ایک دوسرے سے رگڑ کھا کر اب ان میں چلنے کی طاقت نہیں رہی کیونکہ پھر وہ سوج بھی جاتے ہیں، ان میں بعض ذرات اٹک جاتے ہیں تو واقعہ وہ مشین پھر چلنے کے لائق نہیں رہتی۔پھر اس سے ساری قوم کو اقتصادی نقصان پہنچتا ہے۔جن دنوں میں یہ اعتماد اونچا ہو قو م کا ان دنوں میں ساری قوم کی تجارت ترقی کرتی ہے۔حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ آپ فقیہہ تھے اور فقہ کے مضمون میں جو آپ کو سر بلندی اور بلند مرتبہ نصیب ہوا اس میں کوئی فقیہہ آپ کا شریک نہیں ہے۔سب دنیا میں سب سے زیادہ ہر دلعزیزی آپ کو عطا ہوئی لیکن اس کے باوجود ایسے بڑے تاجر تھے کہ اس زمانے کے لحاظ سے کروڑ باپتی تھی اور وجہ ان کی دیانت تھی صرف اور کچھ نہیں تھا۔اس زمانے میں سوسائٹی میں دیانت ایک قدر تھی جس کی سب سے زیادہ قیمت پڑتی تھی اور دیانت واقعہ ایک قدر ہے جس کی بہت بڑی قیمت پڑتی ہے۔ایسی سوسائٹی میں بھی جہاں ایسے بحران آجاتے ہیں کہ نوکریوں سے لوگوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔بسا اوقات بعض احمدی مجھے بتاتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ہمیں نکالا نہیں بلکہ ترقی دے دی اور وجہ یہ بتائی کہ تم دیانتدار ہو۔ہم جانتے ہیں، ہمیں تم پراعتماد ہے۔اس لئے زیادہ تعلیم یافتہ ، اپنے ہم رنگ، ہم نسل کو تو نکال دیا مگر ایک دوسری قوم سے تعلق رکھنے والے دیانتدار کو نہیں نکال سکے کیونکہ اپنا نقصان تھا۔ایک موقع پر مجھے پتا لگا کہ ایک بہت امیر چنیوٹی خاندان ہے ان کا مطالبہ ہے کہ ہمیں احمدی کارکن مہیا کرو۔تو مجھے انہوں نے خط لکھا کہ اس طرح ہم سے مطالبہ ہے ہم کریں یا نہ کریں۔میں نے کہا ضرور کرو اور پتا بھی کرو کیا بات ہے۔مجھے علم تھا کہ کیا ہوگی لیکن میں سننا چاہتا تھا تو انہوں نے اپنے منہ سے صاف اقرار کیا کہ بات یہ ہے کہ میرا تجربہ ہے جب جتنے احمدی کارکن میں نے رکھے ہیں وہ غیروں کی نسبت زیادہ دیانتدار ثابت ہوئے ہیں اس لئے میرا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ میری مجبوری ہے اور انگلستان میں بھی ایک ایسی جگہ ہے ، ایک ایسا ادارہ ہے جہاں احمدیوں کو صرف اس