خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 923 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 923

خطبات طاہر جلد 13 923 خطبه جمعه فرموده 2 دسمبر 1994ء رسول ہے کیسا آقا ہے، میں بے چین رہا ہوں ساری رات کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں نے رسول صلى الله ال صلى الله ۔ محمد اللہ ﷺ کو دکھ پہنچایا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ رات اس بے چینی میں گزارتے ہیں کہ جو بے اختیا کو اورمحمد رتھوڑ اسا بدلہ مجھ سے لیا گیا اس سے مجھے تکلیف پہنچی ہے اور پھر اسی (80) بکریاں دے کر فرمانا کہ سے مجھے اور اپنے دل سے اس واقعہ کو نکال دو اس سے پتا چلتا ہے کہ اس مقدس دل میں مسلمانوں کے لئے اور بنی کو نوع انسان کے لئے کتنی رحمت تھی ، کیسی رافت تھی ۔ جب میں اس بد بخت دنیا پر غور کرتا ہوں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں صلى الله جنہوں نے تمام دنیا کو ایک دوسرے کی زبان کے طعنوں سے بچایا۔ جب میں ان لوگوں کے حالات دیکھتا ہوں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر ظلم کے چرکے لگا کر ، گندے الزام لگا کر تمام دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ کے عشاق کے دل دکھاتے ہیں تو میں ان کو حیرت سے دیکھتا ہوں کہ ان کو کیا پتا کہ کیا کر رہے ہیں جس نے تمام بنی نوع انسان کی عزت کی حفاظت فرمائی ، جس نے ہر حرمت کے لئے ہمارے دلوں میں احساس جگائے کہ تمہارے بھائی کی حرمت تمہاری حرمت ہے۔ اس پر یہ لوگ اپنی بد نصیبی اور بدبختی بد سے ایسی ایسی بیا کیاں اور ایسی ایسی جراتیں کرتے ہیں اور جوادنی سی بھی تکلیف پہنچانے کا سزاوار نہیں تھا، جو برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اس سے کسی کو تکلیف پہنچے آج تک اس رسول ﷺ کا ال پیچھا یہ ظالم نہیں چھوڑ رہے اور ہر طرح سے ان کو، آپ کو اور آپ کی امت کو تکلیف پہنچانے پر بضد ہیں اور مسلسل کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر بھی دل ٹھنڈے نہیں پڑتے ۔ کہاں وہ جس نے راتیں ان کی خاطر جاگ کے کاٹیں کہ ان کو تکلیف نہ پہنچے، کہاں یہ کہ جنہوں نے زمانے صرف کر دیئے آپ کو تکلیفیں پہنچانے میں ۔ صلى الله صلى الله ۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ انہی قوموں کے متعلق ، جن کا ذکر میں کر رہا ہوں، جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی قومیں ہیں ، ان کے متعلق جب قرآن کریم میں بتایا گیا کہ تیرا جو انہوں نے انکار کر دیا ہے اس کے نتیجے میں آخر ان پر عذاب نازل ہوگا اور ان کو سزا دی جائے گی تو یہ سن کر محمد رسول اللہ کی جو دل کی کیفیت تھی اس کو قرآن کریم یوں بیان فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کہ اے محمد تیرے انکار کی وجہ سے جو سزائیں مقدر ہیں ان سے تجھے اتنی تکلیف پہنچی ہے کہ کیا تو ان کے غم میں اپنی جان کو ہلاک کرلے گا اور یہ جو قرآن کا