خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد 13 916 خطبہ جمعہ فرموده 2 دسمبر 1994ء کرنا تو ہوتا ہی زبان سے ہے مگر باتیں بڑی بھاری ہو جاتی ہیں۔بعض باتیں اتنی تلخ ہو جاتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو یہ بات اگر سمندر میں ڈالی جائے تو سارے سمندر کا مزاج بگڑ جائے ،سارا سمندر ناپاک ہو جائے تو بات کو سنبھل کر کرنا اور اس پر نگرانی رکھنا بہت اہم امر ہے اور اس کے ساتھ معاشرہ بنتا بھی ہے اور بگڑتا بھی ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے دوسرے موقع پر فرمایا ، وہ شخص جو زبان کا گندا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے اس کا کوئی بھی تعلق ایمان سے نہیں ہے۔فحش کلامی کرنے والا ، بڑھکیں مارنے والا ، بے ہودہ بکواس کرنے والا ، اپنے بڑوں کے خلاف زبان دراز کرنے والا یہ ساری جو صفات ہیں یہ اس ایک لفظ میں آگئی ہیں جو اس حدیث میں بیان کیا گیا تھا۔پس زبان کو سنبھال کر رکھنا بہت ہی اہم امر ہے۔ایک اور حدیث میں بھی یہی روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں کبھی داخل نہیں ہوگا۔حضرت ابوھریرہ سے ایک روایت ہے کہ آنحضرت نیر مای جو شخص بھی کسی کی بے چینی اور اس کے کرب کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کرب اور اس کی بے چینی دور کرے گا۔(ترمذی کتاب البر والصلہ ) اب یہ برعکس مضمون شروع ہورہا ہے۔جب آپ زبان طعن دراز کرتے ہیں، کسی کو تکلیف دیتے ہیں کسی کو حقیر سمجھ کر ، ذلیل کر کے۔اس کے عیوب لوگوں کے سامنے کھول کر معا شرے میں بے چینی پھیلا دیتے ہیں ، معاشرے کو کر بناک کر دیتے ہیں اور اس کی سزا آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ پھر اللہ تم سے وہ رحمت کی چادر اٹھا لے گا۔جو اٹھ جائے تو پھر تم بھی بے چین ہو جاؤ گے تم بھی کر بناک ہو جاؤ گے، اب اس کے برعکس منظر پیش کیا گیا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے ایک جہنم کا منظر ہے اس کے مقابل پر ایک جنت کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے۔فرمایا جو شخص بھی کسی کی بے چینی اور اس کے کرب کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کرب اور بے چینی کو دور کرے گا اور جو شخص کسی تنگ دست کے لئے آسانی مہیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لئے آسانی اور آرام کا سامان بہم پہنچائے گا۔اب یہاں دنیا اور آخرت کہہ کر دنیا کو جو نمایاں کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مال کی محبت انسان کو بہت سی نیک باتوں سے روک لیتی ہے، خطرہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں مال کم ہو جائے گا اور اور ذریعوں سے بے چینی دور کرنے میں