خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 914
خطبات طاہر جلد 13 914 خطبہ جمعہ فرموده 2 دسمبر 1994ء جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔اب یہ حدیث ہے اور اس قسم کی جو اس مضمون کی اور حدیثیں ہیں ضمناً ہمیں یہ بھی بتارہی ہیں کہ معراج روحانی تھا اور جسمانی معراج نہیں تھا۔ورنہ نعوذ بالله من ذالک وہ لوگ جو جسمانی معراج پر زور دیتے ہیں وہ یہ کہیں گے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے جسم سمیت جہنم کی سیر پر گئے تھے۔اب یہ ایسا جینا نہ تصور ہے کہ ایک لمحہ کے لئے بھی مومن اس تصور کو برداشت نہیں کر سکتا اور پھر بھی آنکھیں بند کر کے ان حدیثوں سے گزر جاتے ہیں۔وہ کشف تھا، ایک عظیم روحانی کشف تھا، جس میں جہنم کے بھی نظارے دکھائے گئے۔جنت کے بھی نظارے دکھائے گئے ،اور تمام امت سے تعلق رکھنے والے فوائد کے امور پر بھی آپ کو مطلع کیا گیا اور نقصان کے امور پر بھی آپ کو مطلع کیا گیا۔پس فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں دیکھا ایک ایسی قوم کے پاس سے میرا گزر ہوا جس کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔میں نے پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہیں۔تو انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے یعنی ان کی عزت اور آبرو سے کھیلتے تھے ،ان کی غیبت کرتے تھے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔پس جس گناہ کی ایسی بڑی سزا ہو اور وہ ایسا گناہ نہیں ہے جس کے اوپر انسان کی فطرت مجبور ہوئی بیٹھی ہے یا وقت کے جوش کا ایک تقاضا ہے جس کے ابتلا میں پھنس کر آپ یہ کام کر بیٹھیں۔یہ تو ایسا بد بخت گناہ ہے جس کے چسکے بڑے آرام سے بے وجہ لئے جاتے ہیں۔مجالس کو سنوارنے کے لئے اپنی طرف سے ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن کے بغیر مجالس زیادہ بہتر ہوتی ہیں اور ایسے گناہ جو ہیں ان کے بعد ان کا بدائر ضرور پیدا ہوتا ہے، یہ رہ نہیں سکتا۔چغلی کرنے والے بھی جب مجلسوں سے ہٹتے ہوں گے تو ان میں اگر کچھ بھی شرافت ہو تو ضرور ضمیر پر بوجھ پڑ جاتا ہوگا اور بعض پھر یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ہم کہیں ایسی بات نہیں کر بیٹھے زیادہ کہ وہاں تک پہنچے اور پھر یہ مصیبت بن جائے اور پہلے سے ہی وہ اپنے ڈیفنس بنانے لگ جاتے ہیں کہ اگر یہ ہوا تو پھر ہم یہ جواب دیں گے۔اور اگر یہ بات ہوئی تو یہ جواب دیا جائے گا اور تیاریاں کی ہوتی ہیں۔مجھے اس طرح پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ جب پوچھا جاتا ہے آپ نے یہ بات کی تھی تو اچا نک نہیں پہلے سے تیار ہوتا ہے۔صاف پتا چلتا ہے کہ اس شخص نے بات کرنے کے بعد سوچ لیا تھا کہ یہ بے وقوفی کچھ ہوگئی ہے جتنی کرنی تھی اس میں ذرا بے احتیاطی ہوئی ہے تو اپنا ڈیفنس