خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد 13 86 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء ہیں۔ بالکل معمولی حیثیت کے ، جو بڑی بڑی قوتوں کے اوپر غالب آگئے ۔ پس یہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم اللہ کا ذکر کرنا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم اس ذکر کی برکت سے کامیاب ہو، کامیابیاں ذکر سے عطا ہوتی ہیں اور ذکر ہے جو انسان کو رعب عطا کرتا ہے اور اس ذکر کے ساتھ ایک لازم بات ہے۔ وَ أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ اگر تم بظاہر ذکر کرتے ہو اور اللہ کی اطاعت نہیں کرتے۔ بظاہر ذکر کرتے ہو اور رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو ذکر جھوٹا ہے۔ وَلَا تَنَازَعُوا اور ہر گز تم آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ ورنہ بھاگ جاؤ گے فَتَفْشَلُوا تمہارے پاؤں پھسل جائیں گے۔ یعنی پیٹھ دکھا کر پیچھے چلے جاؤ گے ۔ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ اور تمہاری پھوک نکل جائے گی۔ یعنی رعب جاتا رہے گا۔ وَاصْبِرُوا اور صبر کرو ۔ اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ الله تعالى يقيناً صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے غزوات میں ہمیں یہی نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ نے ہر غزوہ میں شمولیت فرمائی اور شدید جنگ کی کیفیت اور سختی کی حالت میں بھی ذکر اللہ ہی تھا۔ جو دراصل آپ کی قوت کا راز تھا۔ جنگ بدر کے موقع پر بظاہر آپ جنگ میں خود جسمانی طور پر حصہ نہیں لے رہے تھے مگر وہ جنگ اس چھوٹے سے خیمے میں لڑی جا رہی تھی ۔ جہاں حضرت اقدس محمد مصطفی ذکر الہی میں مشغول تھے اور اس شدت کے ساتھ آپ پر رقت طاری تھی کہ روتے روتے بار بار کندھے کی چادر گرتی تھی اور حضرت ابو بکر اٹھا اٹھا کر واپس پھر کندھے پر ڈالتے تھے۔ ایک عجیب کیفیت تھی باہر جنگ ہو رہی ہے اور یہاں خدا کے حضور گریہ وزاری کی صلى الله جارہی ہے اور لوگ سمجھ رہے ہیں کہ رسول کریم یا الگ کھڑے ہیں۔ حالانکہ آنحضرت اس جنگ میں شامل تھے اور یہی وہ جنگ تھی۔ لیکن پھر آپ نے شرکت فرمائی۔ اس حالت میں سارا وقت نہیں گزارا۔ ان دعاؤں کے بعد ایک غیر معمولی طاقت حاصل کر کے شرکت فرمائی اور ہ جو ٹھی کنکروں کی اٹھا کر پھینکی ہے۔ اس مٹھی میں ایک ایسی غیر معمولی طاقت پیدا ہوگی کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی (الانفال : 18) اے محمد تو نے مٹھی نہیں چلائی تھی ۔ تو جو اللہ سے طاقت لے کر باہر نکلا تھا۔ تیرا سارا وجود الہی طاقت کا مجسمہ بن چکا تھا۔ اس وقت جو مٹھی تیرے ہاتھوں نے چلائی تھی وہ اللہ کے ہاتھوں نے چلائی تھی۔ تو ذکر میں صلى الله علیه وہ