خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 913 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 913

خطبات طاہر جلد 13 913 خطبہ جمعہ فرموده 2 دسمبر 1994ء کیا گیا ہے۔درست کر دیا گیا ہو یا چورس بنادیا گیا ہو اسکو جزعہ کہتے ہیں تو فرمایا کہ وہ تو اسکو شہتیر کی طرح دیکھتا ہے۔یہ مثال اتنی سی کافی ہے اس کے آگے کسی نصیحت کی ضرورت نہیں یہ اس رجحان کو بتاتی ہے اور اس رجحان کو آنحضرت ﷺ نے بھی پسند فرمایا ہے۔عربی شاعر نے اسی مضمون کو یوں بیان کیا ہے: وعين الرضا عن كل عيب كليلة كما ان عين السخط تبدى المساويا کہ وہ انسان بھی کیسا جاہل ہے کہ وہ آنکھ تو وہی ہے لیکن جب محبت کی نظر سے دیکھتا ہے تو ہر برائی نظر سے غائب ہو جاتی ہے اور جب نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو جو برائی نہ بھی ہو وہ بھی دکھائی دینے لگتی ہے۔مگر حقیقت یہ کہ یہاں مضمون جھوٹ کا نہیں چل رہا بلکہ توازن کے بگاڑ کا ہے۔ہرانسان میں کوئی نہ کوئی برائی تو ہوتی ہے۔مراد یہ نہیں کہ یہاں ان لوگوں کی بحث نہیں ہے جو افترا کرتے ہیں وہ مضمون ہی الگ ہے فرمایا دیکھ لیتے ہیں۔یعنی مومنوں سے جو مومن کہلاتے ہیں اتنی تو توقع ہے کہ بالکل بے پر کی نہیں اڑاتے۔چھوٹا ساپر دکھائی دیتا ہے تو اس سے کوؤں کی ڈار بنا دیتے ہیں اور جب یوں کرتے ہیں تو مومن نہیں رہتے۔اس لئے سب انسانی نفسیاتی رجحانات کا حضرت اقدس محمد مصطفی ملے گہری نظر سے مطالعہ کرتے ہوئے ان سے پردہ اٹھاتے ہیں۔یعنی ان باتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جن سے پردہ اٹھایا جائے تو ہمارے ننگ ڈھانکے جائیں گے اور یہ پردہ اٹھانا رحمت کا نشان ہے، ان جگہوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جہاں ہمارا امن اور جہاں شہر ہے وہاں پر دے ڈھانپتے ہیں۔یہ ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے جنہوں نے اس اس طریقے سے اپنی امت کو سمجھایا کہ خدا گواہ ہے کبھی کسی نبی نے بلکہ انبیا نے مل کر بھی اپنی امتوں کے لئے ایسی محنت نہیں کی۔اس بار یک نظر سے دکھا ئیں تو سہی کون نبی ہے جس نے باریکیوں میں اتر کر ، ایسے مقامات تک پہنچ کر جوانسان کو خود اپنی آنکھ سے اپنے اندر دکھائی نہیں دیتے محمد رسول اللہ اللہ نے دیکھا اور ان پر انگلی رکھی اور بتایا یہ جگہیں ہیں جو تمہاری دکھتی ہوئی رگیں ہیں ان کو ٹھیک کرو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ ابو داؤد کتاب الادب سے لی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب مجھے معراج ہوا تو میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا