خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 908
خطبات طاہر جلد 13 908 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 /دسمبر 1994ء لئے زہر یلے ثابت ہوتے ہیں اور اس ماحول میں تقویٰ پل نہیں سکتا۔اس لئے قرآن کریم کی جو آیت میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے اس میں بالآخر اس مضمون کی کھل کر وضاحت فرما دی گئی ہے۔فرمایا! اے لوگو یقینا ہم نے تمہیں ذَكَرٍ اور انٹی یعنی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔یہاں دیکھیں قرآن کی فصاحت و بلاغت ہے کہ مسلمانوں کو یا مومنوں کو مخاطب نہیں فرمایا بلکہ تمام بنی نوع انسان کو مخاطب فرمایا ہے کیونکہ دراصل اس آیت کا منطوق یہ ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں میں بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے نہیں آیا بلکہ تمام بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لیے آیا ہے۔اس لئے ان کی مشترک تاریخ ، ان کے مشترک پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے ماں باپ سب کے مرد اور عورت ہی ہیں اور اس پہلو سے تمہارے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا ہم نے جو تمہیں قبیلوں اور گروہوں میں بانٹا ہے تو تمہارے دلوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی شناخت کی خاطر۔یہ شناخت کا جو مفہوم ہے یہ ناموں سے خوب کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ہم جب نام رکھتے ہیں یہ فلاں ہے، یہ فلاں ہے، تو یہ مقصد تو نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے پر فضیلت دی جائے یا ایک دوسرے سے جدا کر دیا جائے ، مقصد صرف یہی ہے کہ پہچان ہو۔تو جس طرح انفرادی پہچان میں انفرادی نام کام آتے ہیں اسی طرح نسبتاً وسیع پہچان کے لیے قبائل اور بعض گروہی تشخصات کے پیش نظر ہم پہچان لیتے ہیں کہ فلاں قوم فلاں قسم کی ہے، فلاں جگہ سے تعلق رکھتی ہے۔فلاں شخص فلاں قوم سے تعلق رکھتا ہے۔تو تعارف اور تعین میں آسانی ہو جاتی ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَنفُسِكُم جہاں تک عزت کا تعلق ہے یاد رکھو ان چیزوں کا، ان تقسیموں کا، عزت سے کوئی دور کا تعلق نہیں إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ انفسکم میں سب سے معزز خدا کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ اس کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ کی نظر میں جو اچھا ہے وہی حقیقت میں اچھا ہے باقی دنیا کی نظر میں تو بڑے بڑے گندے بھی اچھے بن جایا کرتے ہیں اور ان کے اچھا کہلانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ اور اللہ ہی ہے جو تقویٰ کی پہچان رکھتا ہے کیونکہ انسان تو علیم وخبیر نہیں ہے اس لئے ہر شخص اپنے تقویٰ