خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 905
خطبات طاہر جلد 13 905 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ آگ اگلتے ہیں لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی باتیں سننے کے بعد آپ کے دل کو تسکین ملے گی ٹھنڈ پڑے گی ہر قسم کی آگ سے آپ کا سینہ پاک ہو جائے گا ایسی حالت میں زندگی بسر کرنا ہی حقیقی جنت ہے اور آپ کے ماحول اور آپ کے معاشرے کو بھی آپ کی ذات سے امن نصیب ہوگا۔یہ وہ معاشرہ ہے جس نے لازماً غالب آتا ہے کوئی دنیا کی طاقت اس کو روک نہیں سکتی کسی مولوی کا عناد کسی حکومت کی دشمنی کسی حکومت کی قانون سازی آپ کے خلاف کلیۂ بے اثر ہو جائے گی۔اگر آپ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق سے آراستہ ہوکر گلیوں میں نکلیں گے پھر تو دنیا نے آپ کا عاشق ہونا ہی ہونا ہے کون ہے جو اس راہ میں حائل ہو سکے۔فرمایا کہ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو۔یا درکھو۔فرمایا تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو خدا دیکھ رہا ہے۔تمہارے دلوں کو دیکھ رہا ہے۔اس بات کو حل فرما دیا کہ جب تم کسی کے پاس زیادہ مال دیکھتے ہو یا اچھی صورت دیکھتے ہو، یا کچھ ایسی خوبیاں دیکھتے ہو جو تم میں نہیں ہیں تو غور کرو گے تو تمہارا کچھ بھی نقصان نہیں۔آخری فیصلہ تو خدا کی نظر نے کرنا ہے کہ تم کون ہو اور کیسے ہو۔تو جب یہ مقابلے میں داخل ہی نہیں ہیں چیزیں، مقابلے کے امتحان میں ان کا شمار ہی کوئی نہیں ہے تو تم کیوں بے وقوفوں کی طرح اپنی محرومی کا احساس رکھتے ہو اور اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔اللہ نے دیکھنا ہے کہ اسی کی نظر ہے جو دائماً آپ کے حق میں فیصلہ کرے گی اور جس کی طرف آپ کی نظر لگی رہنی چاہئے۔فرمایا جب اس کو پرواہ ہی کوئی نہیں کہ مال دار تم میں سے کون اور اچھی شکل والا کون ہے تو خواہ مخواہ دلوں میں ایک جہنم سہیڑ رکھی ہے، دلوں میں محرومی کی ایک آگ بھڑ کا رکھی ہے۔ہائے ہمارے پاس مال نہیں رہا، ہمارے پاس ایسی شکلیں نہیں ہیں، ایسی فضیلتیں نہیں ہیں۔رسول اللہ ہے فرماتے ہیں اللہ ان کو دیکھتا ہی نہیں ، جب دیکھ ہی نہیں رہا تو ان کو اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اپنی دنیا کی تسکین کے لئے ٹھیک ہے کچھ کوشش ہو سکتی ہے جو فطرتا جائز ہے لیکن ان جائز طریقوں پر جو خدا بیان فرماتا ہے اور اگر نہ بھی حاصل کر سکو تو یا درکھو کہ اللہ کی دل پر نظر رہتی ہے اور جو دل کو دیکھنے والا ہے وہ دل میں پلنے والے تقویٰ پر نظر رکھتا ہے۔پس سب سے بڑا مال دار سب سے زیادہ خوبصورت ،سب سے زیادہ حسین وہ ہے جس کے دل میں تقویٰ پلتا ہے اور یہ بات کہ خدا دیکھتا ہے یہ تو ظاہر دور کی بات دکھائی دیتی ہے کہ اس کے