خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 906 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 906

خطبات طاہر جلد 13 906 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء دیکھنے کا ہمیں کیا پتا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جس کے دل میں تقویٰ پل رہا ہو اس کی ادائیں حسین ہو جاتی ہیں جو دولت تقویٰ کی دولت ہے اس کا کوئی اور مقابلہ نہیں اس لئے غریب متقی کی بھی معاشرے میں خدا تعالیٰ عزت قائم کرتا ہے اور ایک غریب متقی کو بھی لوگ زیادہ پیار اور محبت سے ملتے ہیں۔آنحضرت ﷺ سے زیادہ دنیا کے لحاظ سے اور کون غریب تھا جن کے گھر میں بعض دفعہ بیٹھنے کی بھی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی۔کئی کئی دن بعض دفعہ کھانا بھی نہیں پکتا تھا، ایسی کھجور کی چٹائی جس پر لیٹنے سے سارے جسم پر نشان پڑ جایا کرتے تھے، مالی لحاظ سے تو یہی حیثیت تھی مگر کتنے کتنے بڑے مال دار تھے جو اپنے اموال پر لعنت ڈالتے ہوئے ان کو پیچھے پھینک کر محمد رسول اللہ ﷺ کی چوکھٹ پر حاضر ہو گئے اور آپ کے تعلق میں جو غربت ان کو ملی وہ ان کی عزتوں کا نشان بن گئی اور پھر کیسے کیسے بادشاہ تھے جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ محمد کا نام لے کر عزت و احترام سے جھکتے ہوئے اپنے تختوں سے نیچے اتر آتے ہیں۔ایک غریب انسان کی عزت ہے اس لئے کہ آپ بالکل سچ فرماتے ہیں کہ تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔تو اللہ مال کو نہیں دیکھتا، اللہ تعالی صورتوں کو نہیں دیکھتا، تقویٰ کو دیکھتا ہے مگر جب خدا دیکھتا ہے تو دنیا کی نظریں بھی اس کے لئے تبدیل کی جاتی ہیں اور دنیا کی محرومی کا احساس بھی مٹا دیا جاتا ہے۔وہ غربت کے با وجود معزز ہو جاتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کی نصیحتوں کو عزت واحترام اور محبت کی نظر سے دیکھیں۔یہ وہ نصیحتیں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی خاطر دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ اپنے تخت سے اتر کر اس کی ایک کوڑی کی بھی پر واہ چھوڑ دے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی باتوں کے سامنے سر جھکا دے تو یہ اس کے لئے بھلائی ہوگی ،اس کی کوئی قربانی نہیں ہے۔اپنے بھائی کے خلاف جاسوسی نہ کرو، عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو، ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑو، اللہ کے مخلص بندے اور بھائی بھائی بن کے رہو۔ان باتوں پر جن میں بعض کا خلاصہ ہے، تکرار ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس نصیحت کو ختم فرمایا اور جہاں آپ نے نصیحت ختم فرمائی وہیں سے ہماری جنتوں کا آغاز ، وہیں سے ہمارے تمام مصائب اور دردوں اور مصیبتوں کے حل کا سفر شروع ہوتا ہے، اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین