خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 904
خطبات طاہر جلد 13 904 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء مقام تقویٰ محمد مصطفیٰ" کا دل ہے ایک انسان کے لیے پھر فرمایا یہی برائی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے پہلے تحقیر سے منع فرمایا پھر دوبارہ ذکر فرمایا ایک مسلمان کے لیے یہی برائی کافی ہے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کہ وہ اپنے بھائی کی تحقیر کرے۔اب فرق صرف اتنا ہے کہ میں عربی میں اس کو دیکھ کر بتا تا ہوں کہ عربی میں یہ فرق موجود ہے کہ نہیں۔ایک ہی جیسے الفاظ ہیں دونوں جگہ۔اسے حقیر نہ سمجھو کا معنی بھی یہی لیا جا سکتا ہے اور تحقیر نہ کرو۔تو دوسری جگہ بھی چونکہ وہی لفظ استعمال ہوئے ہیں اس لیے اسی مضمون میں ہیں دونوں باتیں ، اس میں پائی جاتی ہیں۔اپنے بھائی کو اپنے دل میں حقیر نہ سمجھو اور دوسرا اپنے بھائی سے حقارت کا سلوک نہ کرو۔تو فرمایا کسی مسلمان کی ہلاکت کے لئے اس کا یہی جرم کافی ہے، یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے اور اس سے تحقیر کا سلوک کرے۔ہر مسلمان کی تین چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔اس کا خون ، اس کی آبرو اور اس کا مال - خون تک تو نوبت کبھی کبھی پہنچتی ہے لیکن آبرو اور مال تک تو روزانہ نوبت آتی ہے اور کتنے ہیں جو آبرو پر ہاتھ ڈالنے سے رک جاتے ہیں۔کتنے ہیں جو مال پر ناجائز تصرف سے رک جاتے ہیں اور یہی دوایسی بدیاں ہیں جن سے پاک کئے بغیر جماعت احمدیہ کا معاشرہ دنیا پر غالب آنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔اس لیے اگر برکت ہے تو ان چند نفوس کی برکت ہے جو ان باتوں میں خدا کے فضل کے ساتھ خوب پاک وصاف کئے گئے ہیں۔مگر جس دور میں ہم داخل ہیں جس طرح خدا کے فضل ہم پر نازل ہورہے ہیں میں آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ ان باتوں کو بار بار جگالی کی طرح سوچیں اور ان پر عمل کی کوشش کریں۔ان کو کھنگالیں اور اپنے دلوں کو کھنگالیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے فیض اور پاک باتوں کی برکت سے اپنے دلوں کو پاک کریں، اپنی نیتوں کو صاف کریں اور ایسے معاشرے کو جنم دیں جوان باتوں کی ایک زندہ مثال بن جائے جو آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہیں اور پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا ہے تو آپ میں سے ہر ایک کا دل اس یقین سے بھر جائے گا کہ جہنم کھوئی ہے اور جنت حاصل کی ہے اس سے پہلے آپ جہنم کی زندگی بسر کر رہے تھے یہ جھوٹے چسکے تھے جو مزے تھے باتوں کے، غیبتوں کے تحقیر کے، ان سب کے اندر ایک جہنم کی آگ پائی جاتی تھی جو آپ کے دل میں جلتی تھی وہیں سے بھڑکتی تھی۔معاشرے کو جلانے کی صلاحیت رکھتی تھی جب وہ ابل ابل کے آپ کے منہ سے نکلتی تھی تو ایسے سانپوں کی طرح تھے جو کہانیوں میں پائے جاتے