خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد 13 85 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1994ء بھاگ جاؤ گے۔کمزور ہو جاؤ گے۔فَتَفْشَلُوا کا اصل مطلب ہے تو ہے کہ بزدلی دکھانا، کمزوری دکھانا۔کہ تم کمزوری دکھا جاؤ گے پھر۔وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ اور تمہاری پھوک نکل جائے گی۔جیسے کہتے ہیں بڑا پھو کی ہے یہ تو حقیقت میں مومن کو جو رعب عطا ہوتا ہے وہ اس کی ذاتی خوبیوں کا رعب نہیں ہوتا اللہ سے تعلق کے نتیجے میں وہ رعب پیدا ہوتا ہے اور جتنی اس کی ذات ہے اس کہیں بہت بڑی دشمن کو دکھائی دیتی ہے۔جماعت احمدیہ کا ہمارا سو سالہ تاریخ سے زیادہ کی تاریخ ہو چکی ہے اب، یہی تجربہ ہے کہ جماعت بہت تھوڑی بھی ہو تو اللہ کے فضل سے اس کا رعب بہت ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جب جماعت کو کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔تو ہم سے بہت زیادہ طاقتور دشمن اس سے بے قرار اور بے چین ہو کر کہنے لگتے ہیں کہ آگئے آگئے، یہ غالب آ گئے۔یہ غالب آگئے۔ان کو کسی طرح روکو، یہ ہماری تدبیر سے تو نہیں رکھتے ، تو یہ جو تھوڑی سی تعداد سے اس قدر پریشان ہو جانا، یہ اس رعب کی وجہ سے ہے جس کا قرآن کریم ذکر فرماتا ہے اور محاورہ بڑا پیارا استعمال فرمایا ہے۔تمہاری پھوک نکل جائے گی۔اللہ کا ذکر گیا تو تم بھی گئے بیچ میں سے۔تم تو اس کا ئنات کے ذرے کی طرح ہو جسے ایٹم کہا جاتا ہے۔یعنی جس کا وجود آپ کو ہزاروں، لاکھوں گنا بڑا دکھائی دے رہا ہے۔اگر اس کی پھوک نکال دی جائے تو چپک کر کچھ بھی باقی نہ رہے۔یہ زمین ایک فٹ بال کے برابر ہو جائے۔پس اسی طرح اللہ تعالیٰ کے رعب سے اللہ کی طرف سے مومنوں کو ایک رعب عطا ہوتا ہے اور اپنے وجود سے زیادہ بڑے ہو کر دنیا کو دکھائی دیتے ہیں۔لیکن ان کی مثال غبارے کی سی نہیں ہے۔بلکہ ایٹم کی سی ہے، ان مالیکیولز کی سی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ، جن کے اپنے اصل وجود سے بہت بڑا بنا کے دکھایا ہے کیونکہ وہ ان کی بڑائی خدا تعالیٰ کی طاقت سے ہوتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ (النحل : 85) ہم نے صرف ان کو بڑا ہی کر کے نہیں دکھایا۔ہم نے ہر چیز کو بہت مضبوط بنایا تو جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رعب مومن کو عطا ہوتا ہے، نہ صرف یہ کہ وہ اپنی حیثیت سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔بلکہ اس بڑائی میں ظاہری طور پر خواہ اندر کچھ بھی نہ ہو۔لیکن خدا کی طاقت اس کو نصیب ہوتی ہے۔اس لئے واقعہ دشمنوں کے لئے ایک بہت بڑی ہیبت بن کے ابھرتا ہے اور جب دشمن سے ٹکراتا ہے۔تو وہ تاریخ بار بار گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةِ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً (البقره:250) کتنی ہی چھوٹے چھوٹے گروہ