خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 901
خطبات طاہر جلد 13 901 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام میں نے ان کو دیا کہ ” سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو کشتی نوح روحانی خزائن جلد 9 صفحہ (۱۲) میں یہ بحث نہیں کرتا کہ تم سچے ہو کہ وہ جھوٹے۔تم اگر جھوٹے ہو، وہ جھوٹا ہے، تم بچے ہو تو مسیح موعود نے بچوں کو فرمایا ہے جھوٹوں سے مخاطب ہی نہیں ہوئے۔سیچوں کو فرمایا ہے بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلیل اختیار کرو اس سے بڑا اصلاح کا اور کوئی نسخہ ممکن نہیں۔یہ اس امام کی فراست ہے جس نے خدا سے نور پایا ہے۔کیسا عظیم حل ہے ورنہ اگر آپ بخشیں کرتے رہیں کہ ثابت کر دیں کہ فلاں جھوٹا اور فلاں سچا تو بعض ایسے جھگڑالو لوگ ہیں اور بعض نزاع ایسے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ نہ سننے والے مانیں گے نہ آپ حقیقت میں آخری یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں سچا اور فلاں جھوٹا۔حالات کے مطابق ایک سرسری اندازہ سا ہے اور بعض پیچیدہ حالات میں اندازے سے بڑھ کر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔تو بعض لوگ شکوے کرتے ہیں کہ نہیں غلط فیصلہ ہو گیا ، شریعت کے خلاف ہو گیا۔ہم سچے ہیں فلاں جھوٹا ہے ان کے اوپر میں نے ہمیشہ یہ ترکیب استعمال کی ہے کہ اس بحث کو چھوڑ دو کہ آخر انسان کا فیصلہ ہے غلطی ہو سکتی ہے مگر تمہیں فیصلہ ماننا ہوگا۔میں پھر جب یہ کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تم سے مخاطب ہیں کیونکہ تم اعلان کر رہے ہو کہ تم سچے ہوا گر تم اس دعوے میں بچے ہو تو حضرت مسیح موعود تمہیں کہہ رہے ہیں کہ اے بچو! بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔یہ وہ نسخہ ہے جوضرور کارگر ثابت ہوتا ہے اگر ایسے شخص کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی محبت کی رمق باقی رہ گئی ہو۔صلى الله حضرت رسول اللہ ﷺ دیکھو مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔بھائی بن کر رہو بھائی دوسرے پر ظلم نہیں کرتا مگر افسوس کہ ابھی تک ہمارے معاشرے میں بھائی کے بھائی پر ظلم کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اسے رسوا نہیں کرتا جبکہ آج بھی بعض بھائی دوسرے بھائیوں کی رسوائی کے درپے ہوتے ہیں ، کوشش کرتے ہیں کہ وہ رسوا ہو جائے۔اسے حقیر نہیں جانتا اب حقیر نہیں جانتا جو ہے یہ بہت ہی اہم ہے۔اگر ایک انسان اپنی حقیقت کو پہچان جائے تو وہ دوسرے کو حقیر جان ہی نہیں سکتا۔یہ نہیں فرمایا کہ حقیر نہیں کہتا۔حقیر نہ کہنا اور بات ہے، حقیر جاننا اور بات ہے۔جاننے سے مراد یہ ہے کہ اپنے دل پہ جب وہ غور کر کے دیکھتا ہے تو وہ دوسرے کو حقیر جانتا ہی نہیں ہے۔حضر مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: