خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 900
خطبات طاہر جلد 13 900 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء ترقی نہیں کسی قسم کا فیض ان سے غیروں کو جاری نہیں ہور ہا تھا۔ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے لمبے عرصے تک محنت کی توفیق ملی، جھگڑوں کا پھر خود فیصلہ کرنا پڑا آخر بلا کر، اور یہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو سعادت بخشی کہ باوجود اس کے کہ پہلے کسی طرح بھی بعض فیصلے مانے پر تیار نہیں ہوتے تھے جب ان کو یہ کہا گیا کہ آج کے بعد اس فیصلے کو مانو یا مجھ سے تعلق کاٹ لوتو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض ایسے معاملات میں بھی جہاں معلوم ہوتا تھا کہ اصلاح کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہی اس مقام پر پہنچ کر انہوں نے آگے قدم نہیں بڑھایا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے اگر یہ بات ہے تو جو بھی فیصلہ ہے ہم آپ سے تعلق نہیں توڑیں گے اس فیصلے کو قبول کریں گے۔اب اللہ نے ایسی برکت دی ہے کہ سارے ہندوستان میں تبلیغی کامیابی کے لحاظ سے کلکتہ اور اس کے ماحول جیسا اور کوئی مقام نہیں۔حیرت انگیز انقلاب بر پا ہورہا ہے دشمن کوششیں کر رہا ہے لیکن کچھ ان کی پیش نہیں جاتی اور وہ آسام تک نیپال تک اثر ڈال رہے ہیں اور خدا کے فضل کے ساتھ ان کی راہ کوئی روک نہیں سکتا اور ابھی وہ سارے بیدار نہیں ہوئے ہیں۔میں جانتا ہوں ابھی ایک حصہ ہے مگر اتفاق کی برکت ضرور ہے جس سے سارے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کچھ اور بھی رخنے ہونگے اللہ بہتر جانتا ہے مگر خدا کے فضل سے اگر ہیں تو اتنے سمٹ گئے ہیں اور سکڑ گئے ہیں کہ ان کا جماعت پر کوئی بد اثر نہیں ہے۔اگر وہ بھی دلوں سے نکال پھینکیں اور جس طرح حضور اکرم ﷺ ہمیں بھائی بھائی بنانا چاہتے ہیں وہ پھر ایک دفعہ اور قوت کے ساتھ بھائی بھائی بنیں تو مجھے یقین ہے کہ سارے علاقے میں یہ عظیم روحانی انقلاب برپا ہو جائے گا۔بڑے بڑے مولویوں کی دور دور سے توجہ ہے، وہ آتے ہیں، جلسے کرتے ہیں، سارا زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح نئے ہونے والے احمدی اپنے موقف سے پھر جائیں اور احمدیت کو ترک کر دیں یہاں تک کہ بڑی شدید جسمانی اذیتیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا استقلال بخشا ، ایسا صبر عطا کیا ہے اور ایسی محبت جماعت سے پیدا ہو گئی ہے کہ وہ نہ ڈرانے سے باز آتے ہیں ، نہ لالچ سے جماعت سے منہ پھیرتے ہیں اور بنیادی طور پر وہی چیز ہے اور کوئی انقلاب نہیں برپا ہوا صرف یہ کہ آپس میں جو اختلافات تھے وہ خدا کے نام پر اور خلافت سے تعلق کے نتیجے میں اختلافات پر اپنے دماغ کی راہ سے قائم رہتے ہوئے ان کو ترک کر دیا۔یہ قربانی ہے یعنی یہ ضد نہیں توڑی کہ ہم بچے ہیں اور وہ جھوٹا ہے لیکن یہ بات مان گئے جو