خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 899
خطبات طاہر جلد 13 899 خطبہ جمعہ فرمود و 25 نومبر 1994ء میں نے ایک دفعہ ذکر کیا تھا ہمارے بعض اضلاع پاکستان میں ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آغاز میں بہت احمدیت نے ترقی کی ہے اور ایسی صلاحیتیں موجود تھیں کہ اگر اسی رخ پر چلتے رہتے تو آج پاکستان کے مسائل بالکل مختلف ہوتے اور جماعت کو جو خدا تعالیٰ نے اصلاح کی صلاحیت بخشی ہے اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کی کایا پلٹ سکتی تھی لیکن اب دیکھیں مسائل کتنے بدل گئے ہیں کیونکہ جماعت کو انہوں نے تحقیر کی نظر سے دیکھ کر ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیا ہے اور ہر دوسری بدی کو کھلی بانہوں سے سینے سے لگاتے ہیں۔اس صورت میں کتنا بڑا نقصان قوم کو پہنچا ہے اور اگر آپ تجزیہ کر کے دیکھیں جیسا کہ میں نے کیا اور گاؤں گاؤں پہنچ کر میں نے حالات کا جائزہ لیا تو ہر جگہ یہ بات نظر آئی کہ جن دیہات میں ، جن اضلاع میں آپس میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں ،شریکوں کے پرانے تصور جاگ اٹھے ہیں، ایک دوسرے سے رقابتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، چوہدراہٹوں نے غلط رخ اختیار کر لئے ہیں وہاں جماعت کی ترقی بند اور تنزل شروع ، اگلی نسلیں نہیں سنبھالی گئیں، اپنے بچے اپنے ہاتھوں سے دیکھتے دیکھتے نکلے اور غیروں کی گود میں جا بیٹھے، یہ کچھ نہیں کر سکے کیونکہ ان کی ساری مجالس کا جو زور تھا وہ ایک دوسرے کی برائی میں ، ایک دوسرے کی دشمنی میں اور اس کے نتیجے میں پھر گندے اخلاق کی نسلیں پیدا ہوئی ہیں۔ان میں کہاں یہ طاقت کہ معاشرے میں انقلاب بر پا کرسکیں۔جہاں اصلاح ہوئی وہاں اللہ کے فضل سے حیرت انگیز تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ہندوستان میں بھی یہی صورت تھی بعض جگہ ابھی بھی ہے۔ایک جماعت چونکہ اب اصلاح پذیر ہو چکی ہے اس کا میں نام لے دیتا ہوں، کلکتے کی جماعت تھی سال ہا سال ان کے اوپر میں نے زور مارا کہ خدا کے لئے اپنے اختلافات ختم کرو، چھوٹے چھوٹے اختلافات، کمینے اختلافات لیکن خاندان، خاندانوں میں بٹے ہوئے ، بھائی بہنوں سے جدا ہوئے ہوئے اور اس قدر وہ جماعت اپنے اثر کے لحاظ سے ، اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے سکڑ گئی تھی، جیسے کینسر کا مریض ہو جائے اور وہ چیز سکڑنے لگتی ہے بعض دفعہ گردوں کا کینسر ہو جائے وہ سکڑنے لگتے ہیں، پیٹوں کا کینسر ہو وہ بھی سکڑنے لگتے ہیں۔تو اپنے آپ پر اپنی بدی کے گرد لپٹ کر وہ چھوٹے ہونے لگ جاتے ہیں۔پس اس طرح کی صورت حال وہاں موجود تھی مگر اتنی بڑھی ہوئی نہیں جیسے میں نے مثال دی ہے مگر بے برکتی تھی، کوئی