خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 898
خطبات طاہر جلد 13 898 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء باتیں ہورہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو آپ کے دل میں رد عمل پیدا ہورہے ہیں ان کے تذکرے ہیں۔اس پر بے رخی انسان کیسے برتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ بسا اوقات اچھادیکھ کر دل ایسا کڑھتا ہے کہ اس سے انسان تعلق ہی تو ڑ لیتا ہے اور یہ بھی ایک تکبر کا اظہار ہے کہ ہمیں کوئی پرواہ نہیں اسکی ، ہم اس کی طرف پیٹھ پھیر کے ادھر چلے جاتے ہیں اور خصوصاً پنجاب کے شریکوں میں جو روایتی طور پر ہمارے زمیندارہ خاندانوں اور آپس کے تعلقات میں پایا جاتا ہے یہ بہت ہی نمایاں چیز ہے۔ایک اپنی بڑائی اور انا کا ایک یہ طریق ہے۔ہوگا وہ لکھ پتی ، اپنے گھر ہوگا، ہمیں اس کی کوڑی کی بھی پرواہ صلى الله نہیں ، ہم اس کی دعوت پہ بھی نہیں جاتے ، اس کو چھوٹا سمجھتے ہیں۔تو آنحضور و دشمنی کے ایک طریق کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں بے رخی نہ برتو۔جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کے رہو۔مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور ہوتا کیا ہے بھائی بھائی پر ظلم کر رہا ہے آج کل۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ باتیں چھوٹی چھوٹی سی ہیں بظاہر ہر ایک کو سمجھ آرہی ہیں۔کیوں نہ ہم ایسا کریں اچھی باتیں مگر کرتا کون ہے۔بہت کم ہیں جو ان باتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کم سے کم جب اپنی زندگی پر ان باتوں کا اطلاق ہوتا ہے تو ساری اچھی باتیں اس وقت دکھائی دینا بند ہو جاتی ہیں اور صرف بری باتیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔چنانچہ فرمایا وہ اس پر ظلم نہیں کرتا حالا نکہ بہت سے ایسے جھگڑے میرے پاس پہنچتے ہیں احمدیوں میں بھی کہ بھائی نے بھائی پر ظلم کیا ہوا ہے۔جائیدادوں پر قابض ہو گیا تو پھر چھوڑ نے کا نام نہیں لیتا۔کسی اور رنگ میں فوقیت ہے تو اپنے بھائی کو اس میں شامل نہیں کرتا، اس کی تذلیل کرتا ہے، حقارت سے دیکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر بہت سے تعلقات بگڑتے ہیں، خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور جماعت میں ہمیں جو یکسوئی جو اتفاق چاہئے ، جس کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے اس اتفاق سے ہم محروم رہ جاتے ہیں اور یہ جو جھگڑے ہیں یہ کسی ایک ملک سے وابستہ نہیں ہیں ہندوستان میں بھی ہیں، بنگلہ دیش میں بھی ہیں، دوسرے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں اور جہاں جہاں یہ پاۓ جاتے ہیں،افریقہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔وہاں جماعت کی ترقی رک جاتی ہے تو ایک چھوٹی سی بات کا اتنا بڑا گندا نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ساری جماعت کا نقصان ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ساری دنیا کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ جن کو تبلیغ پہنچنی چاہئے تھی آپس کے اختلافات کی وجہ سے وہ آگے نہیں پہنچ رہی۔