خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد 13 3 خطبہ جمعہ فرمودہ 7 /جنوری 1994ء کام شروع ہو چکے ہیں۔انگلستان غالبا اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔رفیق حیات صاحب کی ٹیم ما شاء اللہ دن رات بڑی محبت سے کام کر رہی ہے۔سارے دنیا کے پروگراموں کو تر تیب دینے میں اس پہلو سے جماعت UK کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت بخشی ہے اور سبقت عطا فرمائی ہے کہ ان سب کاموں کا سب سے بڑا بوجھ جماعت UK نے اٹھایا ہے۔کل جب یہاں ہماری وہ وین آئی جس کے ذریعے ہم براہ راست دنیا میں کسی جگہ سے بھی خود اپنے پروگرام اٹھا کر سیاروں تک پہنچا سکتے ہیں اور جب میں وہ Van دیکھنے کے لئے گیا تو بتایا گیا کہ یہاں UK کے خدمت کرنے والے بھی موجود ہیں، ان کو بھی دیکھیں۔میں یہ دیکھ کے بہت خوش ہوا کہ لڑکوں کی ٹیمیں بھی اور لڑکیوں کی ٹیمیں بھی دن رات مگن ہیں اور بہت محنت سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلیقے کے ساتھ کاموں کو سنوار رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔سب سے پہلا بیرونی مبلغ جو دنیا میں بھجوایا گیا تھا وہ غالبا انگلستان تھا اور اس کے بعد ماریشس کی باری آتی ہے تو ان دو باتوں میں بھی ماریشس اور انگلستان کا تعلق قائم ہوا ہے۔ماریشس اگر چہ اعلان میں پہلے ہے لیکن کام کو ترتیب دینے اور سب سے نمایاں حصہ لینے میں لازما UK دنیا میں سب سے پہلا ہے۔یہ دونوں اعزاز ان دونوں جماعتوں کو اللہ تعالیٰ بہت بہت مبارک فرمائے۔اب میں چند کلمات میں ماریشس کی جماعت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔اس دورے کے عرصے میں ہم نے ان کو بہت ہی مخلص اور محنتی اور فدائی پایا اور بڑے وسیع تعلقات، بڑے وسیع رابطے قائم ہوئے ہیں۔شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس کی تقریبا ہر بڑے چھوٹے مرد عورت بچے سے ملاقات ہوئی ہو اور انہوں نے دن رات اپنے اپنے حصے کے اوقات میں باری باری آ کے ملاقات کی ہو، کچھ جگہ ہمیں بھی جانا پڑا۔مجھ پر جو عمومی تاثر ہے وہ یہ ہے کہ خدا کے فضل سے جماعت کے اندر اخلاص کا معیار بہت نمایاں ہے اور ہر طرف ہر جگہ ہے یعنی یہ نہیں کہ کوئی جماعت پیچھے ہے، کوئی آگے ہے۔تمام جماعتوں میں، مردوں عورتوں اور بچوں میں خدا کے فضل کے سلسلے سے بہت محبت ہے اور اپنے بزرگ مربیوں کو بھی بڑے پیار اور محبت سے یادر کھتے ہیں۔اول سے آخر تک ان کی یاد میں نسلاً بعد نسل منتقل کی جارہی ہیں اور یہ پہلو مجھے ان کا بہت ہی پیارا لگا کہ اپنے ان محسنین کو یا در کھتے ہیں جن کے ذریعے خدا تعالیٰ نے ان کے مقدر جگائے اور خدا کے فضل سے ان کو احمدیت کی آغوش میں آنے