خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 892 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 892

خطبات طاہر جلد 13 892 خطبہ جمعہ فرمود و 25 نومبر 1994ء جماعت کی معرفت اس سے پوچھوں گا اور ایک خاص ذہن میں طریق ہے اور ضمناً کوئی بات کرتا ہے تو اس کے جواب میں میں وہ بات کر دیتا ہوں۔تو جہاں بھی یہ بات ہوتی ہے وہ امانت بن جاتی ہے۔تو چغلی میں بھی مختلف درجے ہیں۔بعض ادنیٰ درجے کی چغلیاں ہیں جن میں اتنی گھناؤنی نیت شامل نہیں ہوتی جتنی عموماً چغلی کے ساتھ وابستہ ہے بلکہ وہ بے احتیاطیاں ہیں جن کو آنحضرت مے اپنے اعلیٰ مقام سے جب دیکھتے ہیں تو انہیں خیانت بیان فرماتے ہیں۔کہتے ہیں جن مسلمانوں کا مجھ سے واسطہ ہے، جو میرے تربیت یافتہ ہیں، ان سے میں جس اعلیٰ مقام کی توقع رکھتا ہوں ان سے یہ باتیں بھی خیانت بن جاتی ہیں۔کتنا بلند معیار ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اپنی امت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو یہاں تک فرمایا کہ التفات کرے دوسری طرف۔یہ عجیب بات ہے مگر بہت ہی گہری بات ہے کہ بعض دفعہ انسان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اس بات کو آگے مکمل کرے گا اور پھر یہ بھی بات کرے گا کہ یہ باتیں آگے کرنی ہیں یا نہیں کرنی۔اتنے میں کوئی اور آگیا تو بات ختم ہو گئی تو ایسا شخص یا د ر کھے کہ وہ آدھی بات اس کے پاس امانت رہتی ہے جب تک امانتدار امانت والے سے اجازت نہ لے لے اس وقت تک وہ آگے کسی سے بات کرنے کا حق نہیں رکھتا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔یہ ایک لمبی حدیث ہے جس میں بہت سی نصائح فرما دی گئی ہیں اور یہ مسلم باب الظن و بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے ،ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو،اپنے بھائی کے خلاف تنجس نہ کرو، اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ برتو ، جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اس پر ظلم نہیں کرتا ، اسے رسوا نہیں کرتا، اسے حقیر نہیں جانتا۔اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔یعنی مقام تقوی دل ہے اب یہ بھی مترجم نے کہہ دیا ہے یعنی مقام تقویٰ دل ہے حالانکہ میں اس سے یہ سمجھتا ہوں تقویٰ کی اصل کسوئی حضرت محمد مصطفی ملے ہیں اور جو بھی آپ کے دل پر گزرتی ہے یا آپ کے اعمال میں بات جاری ہوتی ہے وہی تقویٰ کا معیار ہے اس کے سوا کوئی قابل قبول نہیں ہے اگر وہ اس سے متصادم ہو۔تو تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے ایک اپنی چھاتی کی طرف اشارہ ہے۔یہ کہنا پیش نظر نہیں تھا کہ