خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 889 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 889

خطبات طاہر جلد 13 889 خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1994ء کر دیتی ہے پھر وہ آتی ہے لڑتی ہوئی لعنتیں ڈالتی ہوئی کہ تم نے یہی کہا تھا وہ کہتی ہے یہ میں نے نہیں کہا تھا تو ایک منہ جب پھٹ کر دومنہ بنتا ہے تو پھر پھلتا چلا جاتا ہے اس کا پھر ایک منہ بنا بہت ہی مشکل کام ہے اور ایسے فسادات میں سب سے زیادہ مشکل پڑتی ہے فیصلہ کرنے کی کیونکہ ہر گواہی پھٹی ہوئی ہے اور اگر وہ کچھ حصہ مان بھی جائے تو کہے گی میرا یہ مطلب تو نہیں تھا میرا تو یہ مطلب تھا۔جس طرح سیاست دان آج کل کہہ دیتے ہیں ہر بیان پر ان کے بھی دومنہ ہو جاتے ہیں بے چاروں کے۔تو یہ دو مونہوں والی بات ہے حضور اکرم ﷺ کی بہت گہری اور اس سے سوسائٹی کی بہت سی بیماریاں کھل کر واضح ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کا علاج پھر ممکن ہے۔تو اس کا تو علاج یہی ہے کہ ایسی باتوں سے گریز کیا جائے جن کے متعلق انسانی تجربہ ہے کہ ہمیشہ آگے پہنچتی ہیں اور بدل کر پہنچتی ہیں اور بگڑ کر پہنچتی ہیں۔تو اول تو اگر کسی بھائی میں یا کسی بہن میں کوئی برائی دیکھی جائے تو خود بتانا چاہئے اس کو۔یہ ایک منہ والی بات ہے اور خود بتائے اور اگر وہ اس سے ناراض ہے اس کے سننے کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے کہ کہنے کا انداز بے ہودہ ہومگر بالعموم اگر شریفانہ انداز میں ہمدردی سے بات کی جائے تو بگاڑ پیدا نہیں ہوتا تو اگر ہو جائے تو پھر اس کا قصور ہے جس نے بات سنی یا اس کا قصور ہے، جس نے بات کہی تو بظاہر نیک نیتی سے ہے لیکن دل میں زخم لگانے کی نیت ہے۔پس آگے پھر یہ صورتحال ایسی ہے کہ اس کا بار یک تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔بعض جا کر یہ کہتے ہیں کہ تم میں یہ بات ہے تم میں یہ بات ہے ہم نے تو سچ بولنا ہے ، کچی بات کہنی ہے اور سچی بات کہنے کا بھی سلیقہ ہوتا ہے اور آنحضرت ﷺ نے ہمیں سب سلیقے سکھا دیئے ہیں کوئی پہلو ہماری زندگی کا ایسا نہیں چھوڑا جس میں معاملے کو خوب واضح نہ فرمایا ہو اور کھل کر بیان نہ فرمایا ہو۔ایسی باتیں جو دوسرے کے لئے تلخی کا موجب ہوں اگر سچی ہوں تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ تمہیں وہ سچی باتیں دوسروں تک پہنچانے کا کوئی حق نہیں ہے اگر جھوٹی باتیں ہوں تو وہ تو افتراء ہے۔چغلی کا مضمون بھی سچی باتوں سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس بیچ میں جھوٹ بھی شامل ہو جاتا ہے۔یہ الگ مسئلہ ہے۔بات کرنے والے نے سچا عیب بیان کیا ہو اور اسی سچے عیب کو سن کر اس شخص تک بات پہنچا دی جائے جس کے متعلق وہ بات بیان ہوئی تھی تو کہنے والا بھی سچا ہے، دوسرا جو وسیلہ بنا وہ بھی سچا ہے لیکن حرکت معیوب اور جھوٹی اور گندی ہے۔ایسی گندی حرکت ہے کہ