خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 883 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 883

خطبات طاہر جلد 13 883 خطبہ جمعہ فرمود و 18 نومبر 1994ء ذمہ دار بنائے گئے ہیں اور ان امراض کو سمجھنا ہوگا ان کی کنہ سے واقفیت حاصل کرنی پڑے گی۔صحیح تشخیص نہیں کر سکتے تو کیسے ہم بیماروں کا علاج کر سکیں گے۔اس لئے اس حوالے سے میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ محض یہ کہہ دینا جی غیبت نہیں کرنی، غیبت نہیں کرنی یہ تقریر کر کے انسان الگ ہو جائے ہرگز کافی نہیں ہے۔ایسا سمجھا دیں اور آ کے گھروں میں ایسی باتیں کریں کہ دلوں کی تہہ تک غیبت کی حقیقت ایسے اترے کہ جو دلوں کو مغلوب نہ کرے بلکہ وہ دل اس کو مغلوب کر لیں یعنی ایسی لا تعلقی اس سے پیدا کر لیں کہ اس کے اندراثر کرنے کا کوئی بھی مادہ باقی نہ رہے۔ایسی صورت میں بھی بعض چیزیں اترتی ہیں۔خون میں رہتی ہیں لیکن بے اثر ہو جاتی ہیں۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے شیطان کے حوالے سے فرمایا کہ ہر انسان کے خون میں دوڑ رہا ہے۔کسی نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کے خون میں بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں مگر مسلمان ہو گیا ہے۔(مسلم کتاب الفضائل حدیث : 4294) تو اندر جو فطرت میں احتمال موجود ہے اس کو جڑوں کی طرح اکھیڑ کر باہر نہیں پھینکا جا سکتا مگر اس کی ایسی اصلاح ممکن ہے کہ اس کا مزاج بدل جائے۔پس بدی کی آواز اگر ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی جائے اور وہ آواز اٹھنا بند ہو جائے تو ایک گونگی بدی خون کے اندر رہے گی۔ایک اندھی بدی خون کے اندر رہے گی وہ کوئی بھی بداثر اپنا ظاہر نہیں کرسکتی۔یعنی چاروں طرف سے اس کو دیوار میں چن کر جس طرح زندہ دفنا دیا جاتا ہے اس طرح وہ دیواروں میں چن دی جائے گی۔پس غیبت کو بھی اس طرح اپنے دل میں اتاریں کہ آپ کے دل پر اثر انداز نہ ہو بلکہ آپ اس پر ایسا قابو پالیں کہ دیوار میں چن دیں پھر کبھی آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور روز مرہ کی زندگی میں جب بھی آپ کہیں ایسی بات کر رہے ہوں تو اپنے دل میں ٹولیں کہ کیوں کر رہا تھا یا کیوں کر رہی تھی اور مزہ آیا تھا کہ نہیں۔مزہ آیا تھا تو کیوں آیا تھا اگر آیا تھا تو ابھی تک آپ بھائی کا گوشت کھانا چھوڑ نہیں رہے نہ چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ آپ کا ذوق ہی نہیں ٹھیک ہوا۔پس اس کو تو میں سمجھتا ہوں جہاد کی صورت میں لینا چاہئے۔غیبت کا قلع قمع جماعت میں اگر ہو جائے تو بہت عظیم کامیابی ہو گی۔میں جب امریکہ دورے پر گیا۔اب دیکھیں کتنا Advance ملک ہے۔دنیا کے لحاظ سے اتنا ترقی یافتہ لیکن وہاں میں حیران رہ گیا دیکھ کر کہ بعض جماعتوں میں خوب غیبت چل رہی ہے۔ایسی کراہت پیدا ہوتی تھی سن کر کہ میں حیران ہوتا تھا کہ ان