خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 882 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 882

خطبات طاہر جلد 13 882 خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1994ء ہے، دیندار ہے، نظام جماعت کا بڑا احترام کرتا ہے تو آپ اس کو کہیں گے تو مان جائے گا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بیماری ضروری نہیں کہ سارے نظام جسم پر قبضہ کر چکی ہو بعض حصوں میں رہتی ہے بعض میں نہیں رہتی۔ان کے لئے صحت کا زیادہ امکان ہے جن کا کینسر بعض چھوٹے اعضاء تک محدود ہے اس کے پیج باقی جسم پر پھیلتے نہیں ہیں اور باقی جسم کو اگر بیدار کیا جائے تو وہ اس کا مقابلہ کر سکتا ہے تو اللہ اور رسول کی محبت جسم کے دوسرے گوشوں میں پائی جاتی ہے تو جو بیمار حصہ ہے اس کے حوالے سے ٹھیک ہوسکتا ہے۔آپ سوچیں کبھی جوحرکتیں کر چکے ہیں یا کرنے کو دل چاہتا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ اس کو پسند فرماتے۔کیا صلى الله آپ کے نزدیک جو آنحضرت ﷺ نے خدا کا مزاج سمجھا اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے اگر نہیں تو پھر یہ دعائیں کرتے ہو خدا کی محبت کی وہ کس کھاتے میں جائیں گی۔باتیں وہ جن کے متعلق غور کرنے کے بعد پتا چلا کہ خدا کو بھی ان سے نفرت ہے، خدا کے رسول کو بھی نفرت ہے اور دعائیں یہ کہ اے اللہ اپنی محبت عطا کر جس سے تو محبت کرتا ہے۔اس کی محبت عطا کر جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔اس کی محبت عطا کر جو باتیں تیری محبت دل میں پیدا کرتی ہیں ان کی محبت عطا کر اپنی محبت کو اتنا بنا دے کہ جیسے پیاسے کو پانی کی محبت ہو جاتی ہے۔یہ دعائیں ہیں اور وہ حرکتیں لاشعوری طور پر بغیر سوچے سمجھے بھی بعض دفعہ جاری رہتی ہیں جو خدا کی محبت کے منافی ہیں اس کو قطع کرنے والی ہیں۔اب جو میں کہتا ہوں قطع کرنے والی ہیں تو بعینہ یہی بات آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے جو تم قطع رحمی کرو گے تو اللہ سے قطع تعلق کر لو گے۔تو یہ ساری قطع رحمی کی مثالیں، میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں خواہ بہو خاوند کے تعلق سے باقیوں سے قطع رحمی کا معاملہ کرے، قطع رحمی پیدا کرنے کی کوشش کرے یا دوسرے رشتہ دار بہو کے تعلق میں قطع رحمی کا معاملہ کر رہے ہوں، دونوں صورتوں میں باقی نیکیاں اپنی جگہ پڑی رہ جائیں گی اور اللہ کی اور اللہ کے رسول کی بات ضرور صادق آئے گی کہ ایسے لوگوں سے پھر اللہ اپنی رحمت کا تعلق کاٹ لیتا ہے۔ان گھروں میں فساد پیدا ہوتے ہیں، بد معاشرہ جنم لیتا ہے، بچے بدتمیز پیدا ہوتے ہیں، بد اخلاق پیدا ہوتے ہیں، ان کی بیٹیاں آگے پھر اسی قسم کے دکھ دوسروں کے گھروں میں اٹھاتی ہیں ، فسادات کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے بلکہ ٹوٹ جاتا ہے اس سیلاب کے نتیجہ میں جو سیلاب گھروں میں پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ گلیوں میں سیلاب بہنے لگ جاتا ہے۔تو معاشرے کی اصلاح محض چند نصیحتوں سے نہیں ہو سکتی معاشرے کی اصلاح کے ہم