خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 881
خطبات طاہر جلد 13 881 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء گرا ہے تو یہ مناسب نہیں تھا۔تو اگر سچی ہمدردی کے ساتھ ، سچے دل کی ہمدردی سے بات کی جائے تو فائدہ ہوتا ہے اور معاشرہ سنورتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہمیشہ رخ بھابیوں کی طرف ہی ہو اور بہوؤں کی طرف ہو۔بعض بہوؤں کا رخ خاوند کی بہنوں اور اس کی ماں کی طرف بھی رہتا ہے۔وہ جرم جوان کے خلاف ہوتے ہیں بعض دفعہ وہ دوسروں کے خلاف بھی کرتی ہیں اور ان کو شوق ہوتا ہے کہ اپنے خاوند کوسب سے کاٹ کر الگ کر دیں اور پھر ان کو چین ملتا ہے جب وہ اپنے ماں باپ سے تعلق توڑ لے، اپنی بہنوں بھائیوں سے تعلق توڑلے اور اس کے ماں باپ اور اس کے بہن بھائیوں کا ہوکر رہ جائے۔اور یہ ایک ایسا واقعہ نہیں جو کبھی کبھی ہوتا ہو یہ روز مرہ دیکھنے میں آتا ہے حالانکہ قرآن کریم نے جب شادی کا مضمون بیان فرمایا تو اس طرح بیان فرمایا کہ دونوں کے ماں باپ ایک ہو چکے ہیں۔رحموں کے تعلق کا ذکر فرمایا جو دونوں طرف برابر ہے۔پس اس پہلو سے ہمیں معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اور یہاں بھی غیبت بہت بداثر دکھاتی ہے، خواہ بہو کی غیبت اس کی نندیں اور اس کی ساس کر رہی ہوں یا خاوند سے ان کی غیبت ہو رہی ہو اور بار بار یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے کہ میں تو مظلوم ہوں یہ مجھ سے اس طرح سلوک کرتے ہیں، اس طرح مجھ پر ہنستے ہیں اور یہ مجھ سے حرکت کی گئی ہے اور علیحدگی میں اس رنگ میں کریں کہ جس کی اصلاح کرنی چاہئے اس کو تو پتا ہی نہیں اور جس کی شکایت کی جارہی ہے اس کے دل میں نفرت پیدا ہورہی ہے اور اشتعال پیدا ہورہا ہے تو یہ پھر کوئی مبارک کوشش نہیں ہے اس سے تو معاشرہ برباد ہو جاتا ہے۔تو اسی مضمون کو یعنی غیبت سے بچنے کے مضمون کو اگر اللہ اور اس کے رسول سے تعلق کے حوالے سے دیکھیں تو یہ کام آسان ہو جائے گا۔بعض دفعہ یہ دونوں قسم کے لوگ دینی لحاظ سے اتنے گئے گزرے نہیں ہوتے یعنی ان کے ہاں ایسی Compartments بن جاتی ہیں کہ بیماری ایک طرف چار دیواری میں بند پڑی ہے اور باقی چار دیواری صحت مند ہے۔بعض دفعہ Confine ہو جاتی ہے بیماری کسی ایک عضو میں۔تو یہ مطلب نہیں کہ سارا جسم ہی یقینا کلیۂ گندا اور صحت سے عاری ہو چکا ہے۔ایسے لوگوں میں نیکی بھی پائی جاتی ہے، عبادتیں بھی پائی جاتی ہیں، دعاؤں کے خط بھی لکھتے ہیں اللہ سے ہمیں محبت پیدا ہو، رسول سے محبت پیدا ہو، دین کی خاطر زیادہ قربانیاں کرنے والے ہوں اور بعض بیویاں اپنے خاوندوں کے متعلق بھی لکھتی ہیں کہ یہ برائی تو ہے لیکن ویسے بڑا نیک ہے، نمازی