خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 880 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 880

خطبات طاہر جلد 13 880 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء میں سمجھ لیتا ہوں کس مزاج کے لوگ کیسی باتیں کرتے ہوں گے۔کہیں بھابی کے خلاف نندیں اکٹھی ہوئی ہیں اور الگ مجلس لگی ہے ساس کے ساتھ اور اس میں بھائی کو بھی اگر وہ بے غیرت ہو اور اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے نہ جانتا ہو اس کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے اور خوب اس پہ مذاق اڑائے جاتے ہیں۔یہ بھونڈی حرکت اس نے وہاں کی اس نے وہاں وہ حرکت کی اور سمجھتے ہیں کہ اب اس کو سمجھ آئے گی کہ ہم کون ہیں اور یہ کون ہے۔اب یہ سارا علم ہی ظلم ہے، فساد ہی فساد ہے اور غیبت بھی ہے اور اس میں اور بھی کئی قسم کے بہیمانہ مظالم شامل ہو جاتے ہیں۔اگر کسی بہو بے چاری سے غلطی ہو بھی گئی اور تمہیں اس سے وہ کچی محبت بھی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے تعلق کے نتیجے میں ہونی چاہئے تو تم اس کا آئینہ بنو گے۔علیحدگی میں پیار سے اسے سمجھاؤ گے اور اس کی تکلیف خود محسوس کرو گے۔ہنسی اور تکلیف اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔اگر شرمندگی ہے تو بعض دفعہ غصے میں تبدیل ہو جاتی ہے مگر باتوں کے چسکے میں تبدیل نہیں ہوا کرتی۔یہ تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تلاش تھی کہ اس سے کوئی غلطی ہو پھر ہم ایکا کریں اور پھر ہم اس پر ہنسیں اور اس کا مذاق اڑائیں اور اس کے خاوند کو ذلیل کریں اور وہ پھر غصے میں آکر اس کے بال نوچے اس پر زیادتی کرے پھر ہمارے دل کو ٹھنڈ پڑے۔سفر کا آغاز ہی نفرتوں سے ہے، سفر کا آغاز ہی مکروہ اور ذلیل سفر کا آغاز ہے ایک بہیمانہ حملے کی نیت سے سارا سفر شروع ہوا اور ساری کارروائیاں ہوئیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں ہم جیت گئے۔ہم نے اس ایک لڑکی کو مغلوب کر دیا اور اس کے خاوند کو اپنے لئے چھین لیا حالانکہ سارا نہایت ہی مکروہ گناہ ہے۔اگر محبت ہو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے تو یہ آواز کانوں میں گونجے کہ الْمُومِنُ مِرْأَةُ الْمُومِنِ کہ مون دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔(ابوداؤد کتاب الادب حدیث 4273) تو میں نے پہلے بھی بتایا آئینہ تو شور نہیں ڈالتا آئینہ تو جس کی بدصورتی دیکھے دوسرے آدمی کو یہ نہیں کہتا کہ یہ بدصورت شخص تھا جو مجھے دیکھ کے گیا ہے۔میرے اندر اپنا منہ دیکھ کے گیا ہے۔مگر جب بھی کوئی آئینہ دیکھے اس کو ضرور بتاتا ہے مگر ادب اور خاموشی کے ساتھ یہاں تک کہ آئینے پر غصہ نہیں آتا۔تو بہت سی اس کی پر حکمت باتیں ہیں جن کے متعلق میں ایک دفعہ ایک خطبے میں بیان کر چکا ہوں۔ان کی طرف اشارہ کرتا ہوں انہیں دہراؤں گا نہیں کہ اگر رسول اکرم اللہ سے سچی محبت ہو تو یہ آواز کانوں میں گونجے گی اور آپ آئینہ بننے کی کوشش کریں گے اور اس بے چاری کو علیحدگی میں سمجھائیں گے کہ تم نے وہ بات کی تھی اس پر ہمیں بھی شرمندگی ہوئی اور تمہارا مقام بھی دنیا کی نظر میں۔