خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 865 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 865

خطبات طاہر جلد 13 865 خطبه جمعه فرمودہ 11 نومبر 1994ء ہے۔ جہاں آج جیسا کہ آپ کو خبر مل گئی ہے ایک اور احمدی مخلص کی شہادت کی اطلاع ملی ہے۔ تک یہ رستہ شہادتوں کا رستہ ہے یہ تو ہم نے سوچ سمجھ کے قبول کیا ہے۔ شہادتوں کے دکھ اپنی جگہ اور شہادتوں کی سعادتیں اپنی جگہ ۔ آج دنیا میں یہی جماعت ہے جسے اس سعادت کے لئے چنا گیا ہے لیکن اس پھول کے ساتھ جو کانٹے ہیں وہ دکھ بھی پہنچاتے ہیں ، زخم بھی لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائے اور راضی برضا ہوتے ہوئے اس کی راہ میں آگے بڑھنے کی جو سزائیں دنیا نے ہمیں دینی ہیں بے شک دیتی چلی جائے ہم نے قدم نہیں روکنے۔ یہ وہ اسلام کی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنے کی سعادت ہے جو آج ہمیں نصیب ہوئی ہے۔ دشمن کے جلنے سے، حسد سے اس کی گولیوں سے چند مظلوموں کی جان لینے سے ہمارے قافلے کے قدم نہیں رکیں گے۔ ہم ضرور آگے بڑھتے چلے جائیں گے اور اللہ ہی ہے جو ہمارے حساب ان سے چکائے گا۔ لیکن محبت اور خلوص کے ساتھ ان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے ان کی نماز جنازہ غائب آج ہوگی اور اس کے علاوہ ہمیشہ ان شہداء کو اپنی دعاؤں کا ایک مستقل حصہ بنالیں ۔ ایک اور جنازہ بھی ہو گا غائب ہمارے مکرم شیخ عبدالوہاب صاحب جو اسلام آباد کے ایک بڑے لمبے عرصے تک امیر رہے اور بہت مخلص فدائی انسان ۔ جب بعض انتظامی مجبوریوں کے پیش نظر ان کو امارت سے ہٹایا گیا تو ان کے اخلاص میں ایک ذرہ بھی فرق نہیں آیا اور نئے امیر کی اطاعت میں یہ کسی دوسرے سے پیچھے نہیں تھے تو اللہ ایسے مخلصین کو زندہ رکھے کیونکہ ان کی وجہ سے جماعت زندہ ہے۔ ایسے انکسار کے ساتھ محض اللہ ہر خدمت کو قبول کرنا اور ہر خدمت سے الگ ہو جانا اگر خدا کی رضا چاہئے یہ ہے وہ سچائی جو ایک زندہ سچائی ہے جو ہمیشہ جماعت کو زندہ رکھے گی۔ اللہ کرے کہ ایسے مخلصین کی جماعت میں کبھی کمی نہ آئے ایک کو وہ بلائے تو اس کی جگہ سو، ہزار پیدا کرتا چلا جائے ، ان کی بھی نماز جنازہ غائب ہو گی اور آج جمعے کے بعد چونکہ عصر کی نماز بھی جمع ہو گی اس کے بعد انشاء اللہ یہ نماز جنازہ غائب ہوں گی۔