خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد 13 81 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء ضرورت ہے۔پس اللہ نے اس دعا کو بھی قبول فرما لیا اور ان کو کوئی آنچ نہیں آئی۔حالات نے پلٹا کھایا، راہیں تبدیل کر دی گئیں۔سارے ملک کے اخباروں نے اتنی شدت اور زور کے ساتھ اس تحریک کے خلاف مقالے لکھے اور ایڈیٹوریل جاری کئے اور اس تحریک کا تجزیہ کر کے اسے گندی نا پاک تحریک قرار دیا جو اسلام کے نام کو بدنام کرنے والی ہے۔انسان کو انسان سے کاٹنے والی ہے۔بڑی جرات سے یہ اعلان کئے کہ ہم ہرگز یہ برداشت نہیں کریں گے کہ کسی نام پر بھی بنگلہ دیشی کو بنگلہ دیشی سے کاٹ کر رکھ دیا جائے۔ہم ایک قوم ہیں، ایک قوم رہیں گے، اپنی وحدت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔بڑے عظیم الشان مقالے اللہ تعالیٰ نے ان کو لکھنے کی توفیق بخشی یہاں تک کہ وہ سب جو پہلے ان کی مدد پر آمادہ بیٹھے تھے، بڑے سیاست دان جو رعب میں آکر ان کے خلاف کوئی لفظ نہیں بول سکتے تھے ان کے اندر جان پڑنی شروع ہو گئی۔وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔جنہوں نے ان سے وعدے کئے تھے کہ ہم تمہارے جلسوں پر آئیں گے وہ اپنے وعدوں سے منحرف ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نہیں آسکتے۔تو کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر سے ان کی تدبیر بدل دی۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جو دعاؤں کی صورت میں جماعت احمدیہ پر ہمیشہ نازل ہوتا رہا ہے۔آئندہ بھی انشاء اللہ ہمیشہ نازل ہوتا رہے گا۔میں بنگال کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ شکر کے دور میں داخل ہوں اور اللہ نے جوان پر فضل فرمائے ہیں ان کا کثرت سے ، خدا کا ذکر کر کے شکر کریں اور ذکر الہی کو اس جلسے میں بھی بلند رکھیں اور جلسے کے بعد بھی گھروں کی طرف واپس جاتے ہوئے ذکر کرتے ہوئے لوٹیں ، گھروں کو بھی ذکر سے بھر دیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جب ذکر کیا جائے تو اللہ آسمان پر ان کا ذکر فرماتا ہے جن کا زمین پر ذکر کیا جاتا ہے۔جو زمین پر خدا کا ذکر کرتے ہیں اور وہ ذکر صرف آسمان پر ہی نہیں رہتا حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے ہمیں خبر دیتے ہیں کہ جب خدا ذکر کرتا ہے تو اس کے فرشتے ذکر کرتے ہیں اور وہ ذکر لے کر زمین پر اترتے ہیں اور پھر لوگوں کے دلوں میں ان کا ذکر جاری کیا جاتا ہے جو خدا کا ذکر کرنے والے تھے۔پس یہ وہ انعامات کا سلسلہ ہے جو ایک انعام سے پھوٹتا ہے دوسرے انعام پر منتج ہوتا ہے دوسرے انعام سے پھوٹتا ہے تو تیسرے انعام پر منتج ہوتا ہے۔ایک لامتناہی ، لا زوال سلسلہ ہے۔یہ