خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 856
خطبات طاہر جلد 13 856 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 1994ء میں اس کی بات نہیں کر رہا نہ اس سوال کا اس سے تعلق ہے یہاں جس صدقے کی بات ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے متعلق ڈراؤنی خواب دیکھ لی کسی اور نے اس کے متعلق دیکھ لی یا گھر میں کوئی بیمار ہو گیا، آگے پیچھے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت نہیں ہے تو بیماری ٹالنے کے لئے یا بلا گلے سے اتارنے کی خاطر دراصل وہ اپنے نفس پر ایک خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ حسن سلوک فرمایا ہے شاید ان کی تربیت کے لحاظ سے یہ فائدہ مند ہو کہ ان کو کچھ تو مزہ آئے خدا کی خاطر کچھ خرچ کر کے اس کا جواب میں فیض پانے کا اور اگر کوئی براہ راست اللہ سے کچھ فیض پاتا ہے اپنی قربانی کے بعد تو اس کے سنبھلنے اور اس کے دوبارہ روحانی لحاظ سے زندہ ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔تو یہ چونکہ سودا اور طرح کا ہے اس کو میں عام چندوں میں شامل نہیں کرتا لیکن عام طور پر جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے یہی نصیحت کرتا ہوں کہ ان سے کہیں کہ یہ چندہ جماعت کی معرفت دینا تو ضروری نہیں ہے۔صدقہ دو اپنی مرضی سے دو غریبوں میں تقسیم کر دو کسی ادارے کو دے دو ہمارے پاس ہی ضرور آتا ہے اور اگر مجبوری ہو مثلاً پورپ میں، امریکہ میں بعض لوگ استطاعت نہیں پاتے اور ان کو گھبراہٹ ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ان کی طرف سے صدقہ قبول کر لیا جائے لیکن ہمیں اس صدقے کے قبول کرنے میں کوئی ایسا ذوق و شوق نہیں ہے جیسے جماعتی چندوں میں جو خدا کی خاطر، خدا کی راہ پر خرچ کرنے والے چندوں میں ہے اس میں تو ہم بہت جان لڑاتے ہیں، کوشش کرتے ہیں، منتیں کرتے ہیں، سمجھاتے ہیں، فائدے بتاتے ہیں کہ کسی طرح لوگوں کے دل کھلیں لیکن یہ اور مضمون ہے اس میں اگر وصول کرنا پڑے کر لیں ان کی مدد کی خاطر تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔جماعت کوریا کا جو میں نے بیان کیا تھا اس کے اعداد و شمار اب میرے کاغذات میں سے نکل آئے ہیں ان کی فی کس ادائیگی 260۔81 پاؤنڈ ہے۔سو سے کچھ کم فرق ہے سوئٹزر لینڈ کی 174۔38 پاؤنڈ تھی اور ان کی اللہ تعالیٰ کے فضل سے 260 پاؤنڈ ز 80 پیس ہے جو خدا کے فضل سے سوئٹزرلینڈ کے مقابل پر بہت نمایاں طور پر آگے بڑھ گئی ہے۔گزشتہ سال ان کی قربانی بھی بہت معیاری تھی 136 پاؤنڈز فی کس کے حساب سے تھی۔اب جو وقت رہ گیا ہے اس میں میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی بعض احادیث کے