خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 855 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 855

خطبات طاہر جلد 13 855 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 1994ء سوال بھی انہوں نے یہاں رکھا ہوا ہے وہ میری نظر سے پہلے رہ گیا تھا، اس پر بھی گفتگو ضروری ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر جماعت کے چندہ کی ادائیگی نہیں کی جاتی تو ایسے دوستوں سے ذیلی تنظیم کا چندہ لیا جائے یا نہ لیا جائے؟ اس کا اس مضمون سے تعلق ہے جو میں نے ابھی بیان کیا ہے اس لئے میں جہاں تحریک جدید کا ذکر کیا وہاں اس سے پہلے لازمی روز مرہ کے چندہ جات میں ان کو شامل کرنے کی تلقین کی کیونکہ بنیادی اصول یہی ہے کہ وہ شخص جو دائمی لازمی قربانی میں شریک نہیں ہوتا اس سے نوافل قبول نہیں کئے جاتے مگر بعض استثناء ایسے ہوتے ہیں جہاں اس قانون کی سختی سے پابندی نہیں کی جا سکتی۔آنے والوں کو مستقل لازمی قربانی کے نظام میں شامل کرنا ہمارا اولین فرض ہے لیکن اگر وہ طوعی طور پر تحریک جدید ہی میں شامل ہو جا ئیں تو اس سے بھی ان کو مستقل عمالی نظام کا حصہ بننے میں مدد ملے گی اور طاقت نصیب ہوگی اس لئے یہاں اتنے زیادہ Technicalities میں اور قانونی ابیچ بیچ میں مبتلا نہ ہوں۔بلکہ چندے کی روح کو پیش نظر رکھتے ہوئے اعلیٰ مقاصد کی خاطر ان کی زندگی کی حفاظت کے لئے ان سے تالیف قلب کا سلوک کریں اور قرآن کریم نے جہاں موقعہ قلوب کی بات بیان فرمائی ہے وہاں عام لوگوں سے ہٹ کر، وقتی طور پر ، کچھ عرصے کے لئے ایک نرم سلوک کا اشارہ نہیں بلکہ واضح ہدایت ملتی ہے اور اس کا تعلق اس نظام سے بھی ہے۔پس نئے آنے والوں کے تعلق میں میرا جواب یہ ہے کہ خواہ لازمی چندہ ابھی شروع نہ بھی کیا ہو وہ طوعی چندے میں اگر شوق سے حصہ لینا چاہیں تو یہ کہہ کر آپ نے انکار نہیں کرنا کہ آپ نے لازمی چندے میں حصہ نہیں لیا۔چھ مہینے، نو مہینے ، سال، کچھ عرصہ تربیت کے گزاریں پھر بعد میں انفرادی حالات دیکھ کر فیصلے ہوں گے اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو مولفۃ القلوب کے دائرے سے باہر آچکے ہیں۔ایک دائی، مستقل ، ٹھوس حصہ بن چکے ہیں نظام کا، ان کے لئے یہی ہدایت ہے اور یہی جاری رہے گی کہ اگر وہ چندہ عام نہیں دیتے یا چندہ وصیت وعدہ کر کے ادا نہیں کرتے تو ان سے دوسرے طوعی چندے وصول نہیں کئے جائیں گے۔ایک سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ چندہ نہ دینے والوں سے صدقہ لیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ صدقہ ایک الگ مضمون ہے جو قرآن کریم کے حکم کے تابع ایک شخص اپنی بلا ٹالنے کی خاطر قربانی دیتا ہے وہ دراصل اللہ کی راہ کا خرچ ان معنوں میں نہیں ہے۔ایک صدقے کا مضمون ہے جو وسیع ہے قرآن کریم میں۔