خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 851 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 851

خطبات طاہر جلد 13 851 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 1994ء کے مطابق خرچ کرے اور ہر شخص کی کوئی حیثیت تو ضرور ہوتی ہے۔ جو زندہ ہے اس کی کوئی حیثیت ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بے حیثیت زندہ ہو کم سے کم دو وقت کی روٹی نہیں تو ایک وقت کی سہی ، مگر وہ زندہ ہے۔ اس میں سے ہی ایک لقمہ خدا کی راہ میں خرچ کر دے تو یہ ذُو سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهِ کا مضمون ہے اور جن کو زیادہ عطا ہو جاتا ہے، یا بیچ کے بہت سے درجات ہیں۔ ان کو یا د رکھنا چاہئے وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقُ مِمَّا اللهُ الله الله نے زیادہ دیا ہے تو زیادہ میں سے دو کم دیا ہے تو کم میں سے دو مگر خدا کی راہ میں دینا تو بہر حال ہے اور اس کا چسکا ڈالنا آغاز ہی میں ضروری ہے۔ اس وقت باقی چندوں پر بھی زور دینا چاہئے مگر وہ چندے 1/16 کے حساب سے وصول نہیں کئے جا سکتے ۔ اس کے متعلق میری ہدایت یہ ہے کہ آغاز میں ان کی شرح میں نرمی کی جائے حسب توفیق لیکن بتا دیا جائے کہ جماعت احمد یہ عالمگیر نے اپنے لئے کم از کم یہ معیار مقرر کر رکھا ہے اور تم چونکہ نئے آنے والے ہوا اگر تمہارا دل نہیں کھل رہا اور تمہیں قربانیوں کی ایسی عادت نہیں ہے یا اپنے خرچ تم نے دنیا کی رسوم کے مطابق اپنی توفیق سے پہلے سے بڑھا رکھے ہیں، تو ہم جانتے ہیں کہ پھر تمہارے لئے مشکل پیش آئے گی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق اگر ایک پیسہ دے سکتے ہو تو پیسہ ہی دو۔ شرح جو ہے یہ وقت کے لحاظ سے بعد میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، ہو سکتی ہے لیکن یہ بنیادی اصول جو ہے کہ ہر صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دے یہ غیر مبدل اصول ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب فرمایا کہ ایسا شخص جو تنگی کی حالت رکھتا ہے خواہ دل کی تنگی ہو یا واقعہ مال کی تنگی ہو وہ اپنے لئے کم سے کم جینے کا سامان تو کرے، جینے کا تو آسرا کرے۔ ایک غریب آدمی بھی تو چند لقموں پر اور پانی پر جیتا ہے تو ایسا شخص اگر روحانی لحاظ سے وہ اعلیٰ روحانی غذا ئیں حاصل نہیں کر سکتا تو کم سے کم اپنی زندگی کا تو کوئی آسرا کرے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس کو ایک پیسے کی توفیق ہے وہ پیسہ دے مگر لازما با قاعدگی سے دے۔ اب یہ جو باقاعدگی کا اصول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔ اول تو یہ کہ روزمرہ کی زندگی میں جو کم کھانے والے ہیں وہ بھی باقاعدہ تو کھاتے ہیں یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ دو مہینے ناغہ کر لیا اور پھر شروع کر دیا کھانا۔ روز مرہ کے دستور کے لحاظ سے کچھ باقاعدگی