خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 838
خطبات طاہر جلد 13 838 خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1994ء درستی کی ضرورت ہے اور کوئی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ اور میں نے جو یہ عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ دگنی ہو جاتی ہیں یعنی ان کی قربانیاں دگنی ہو جاتی ہیں یہ بات درست ہے کیونکہ یہ آیت کریمہ بتا رہی ہے کہ خدا کی گہری نظر تمہارے اعمال پر پڑ رہی ہوتی ہے اور اس کی نظر فیصلہ کرتی ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا حیثیت ہے؟ پس وہ لوگ جو غریب ہونے کے باوجود اپنی قربانیاں بڑھاتے ہیں یقیناً ان کے مراتب بلند تر ہوتے ہیں اور نسبتی طور پر خدا کی نظر ان کو مراتب عطا کرتی ہے۔پس اس پہلو سے کسی مسلمان کو یہ شکوے کا حق نہیں کہ اے اللہ تو نے میرے امیر بھائیوں کو یہ دیا تھا اس لئے انہوں نے زیادہ قربانیاں کیں اور تیری زیادہ جزا کما گئے بلکہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تمہاری معمولی قربانیاں بھی میری نظر میں ایک اعلیٰ مرتبہ اور مقام حاصل کر لیتی ہیں۔اس کے بعد ایک آیت میں نے چینی ہے جو تنبیہ سے تعلق رکھتی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ب إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ اور یہ وہی مضمون ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں پہلی آیت کے حوالے کے ساتھ کہ بعض دفعہ اموال بڑھنا فائدے کی بجائے نقصان پہنچا دیتا ہے۔تو وہ مضمون اس آیت کے تابع بیان ہونا چاہئے تھا یہاں۔اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُم فِتْنَةٌ مال اور اولاد کا بڑھنا ایک نعمت ہے لیکن فتنہ بھی ہے۔بعض دفعہ اموال بڑھ جائیں تو اموال کی لالچ بھی بڑھ جاتی ہے اور انسان خدا کی راہ میں قربانیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔بعض دفعہ اولا د بڑھ جائے تو بجائے اس کے کہ انسان خدا کے شکر میں ترقی کرے اس اولاد کا فکر کہ اس کے لئے میں کیا چھوڑ کے جاؤں گا دینی قربانیوں کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔فرماتا ہے وَاللهُ عِنْدَةً أَجْرٌ عَظِيمٌ (التغابن: 16) لیکن یاد رکھو کہ خدا کی خاطر جو تم اپنے اموال جھونکتے ہو اور اپنی اولاد کے حقوق بظاہر کم کرتے ہو یہ کوئی کمی نہیں ہے اللہ کے پاس اتنا بڑا اجر ہے کہ یہ قربانیاں اس اجر کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔فَاتَّقُوا اللهَ پس اللہ کا تقویٰ اختیار كروما اسْتَطَعْتُم جس حد تک تمہیں استطاعت ہے۔بہت ہی پیارا کلام ہے اس پہلو سے کہ تقویٰ بھی استطاعت کے مطابق۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جو کسی اور الہی کتاب میں جس کا میں نے مطالعہ کیا ہے مجھے کہیں دکھائی نہیں دیا۔تقویٰ استطاعت کے مطابق کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح