خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 834
خطبات طاہر جلد 13 834 خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1994ء نہیں پہنچاتی بلکہ خوب پانی دیتی ہے اور بارش نہ بھی ہو تو شبنم تو ان کے مقدر میں لکھی ہوئی ہے۔وہ تو ہر صبح آتی ہے ان کے منہ دھلاتی ہے اور شبنم کا اتر نا چوٹی کی وجہ سے ایک اور فائدہ بخشتا ہے کہ شبنم چونکہ بہ نہیں سکتی اس لئے و ہیں جڑوں میں جذب ہوتی ہے اور جتنی بھی شبنم ہے وہ ان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔تو نہ واہل یعنی تیز بارش ان کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ فائدہ دے جاتی ہے نہ ہلکی بارش سے ان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے بلکہ وہ ایسا باغ ہے جونشو و نما پاتارہتا ہے۔اس مثال کے بہت سے پہلو ہیں۔ایک پہلو جو اس سے پہلے میں نے بیان نہیں کیا اس کی طرف میں آج متوجہ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جنت سے مراد اگر متقی لوگ ہیں ان کی مثال دی گئی ہے جو خدا کی رضا کی وجہ سے بہت بلند مقامات پر فائز ہوتے ہیں ان کو جب خدا زیادہ رزق عطا کرتا ہے تو ان کو نقصان نہیں پہنچتا۔اس رزق کے نتیجے میں ان کے رجحانات دنیا کی طرف مائل ہوتے ہوئے دنیا کی سمت بہنے نہیں لگتے بلکہ کسی قسم کا کوئی نقصان ان کی ذات کو، ان کے وجود کو غیر معمولی برکات کے نتیجے میں نہیں پہنچتا بلکہ پہلے سے بڑھ کر دینی خدمات کی طرف ان کی توجہ پیدا ہوتی ہے۔قربانی میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔زیادہ سرسبز و شاداب دکھائی دینے لگتے ہیں اور اگر کبھی کوئی ابتلا آ جائے تو ان کا رویہ ایسا نہیں بدلتا کہ جس سے ثابت ہو کہ جب تک خوشحال تھے قربانیاں کرتے تھے جب خوشحال نہیں رہے تو قربانیوں سے منہ پھیر لیا ہے بلکہ وہ شبنم بھی ان کی قربانیوں کے تر و تازہ باغات کو مزید تازگی بخشتی ہے اور ان کو مرنے نہیں دیتی۔پس ایسے حالات رکھنے والے لوگ خواہ خوشحالی کے دور سے گزر رہے ہوں یا تنگی کے دور سے گزر رہے ہوں، ان کی نیکیوں کی کھیتیاں سرسبز و شاداب ہی رہتی ہیں۔ان کی قربانیوں کے باغات ہمیشہ لہلہاتے رہتے ہیں۔یہ بہت ہی بلند مقام اور مرتبہ ہے جو خدا کی خاطر قربانی کرنے والوں کو عطا کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود دیکھیں کتنے پیار سے کیسی عظیم الشان مثال ان کی بیان فرمائی ہے۔فَاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ وہ جب اس کو شبنم بھی پہنچتی ہے تو اپنا پھل دگنا دیتی ہے۔یہ ایک مسئلہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔بہت بارشیں ہوں اور باغوں کا پھل زیادہ کردینا یہ تو سمجھ میں آجاتی ہے بات شبنم کے بعد پھل دگنا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ بظاہر خشک سالی کا دور ہے۔شبنم مر نے تو نہیں دیتی لیکن اس طرح فراوانی سے پانی تو مہیا نہیں کرتی جیسے موسلا دھار بارشیں کیا کرتی ہیں۔یہ