خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 833 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 833

خطبات طاہر جلد 13 833 خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1994ء ان کو تقویت دینے کے لئے اور ان کو ثبات بخشنے کے لئے ان کی حفاظت کی خاطر مالی قربانی کی جائے۔اب یہ دو باتیں ایسی ہیں جو جماعت احمدیہ کی مالی قربانی کی تاریخ میں بالکل نمایاں طور پر درست دکھائی دیتی ہیں۔اللہ کی بات تو بہر حال درست ہونی ہے مگر جماعت کی مالی قربانیوں کے آئینے میں جب ان دونوں باتوں کو عمل پیراد یکھتے ہیں تو یہ مراد نہیں کہ اللہ کی بات سچی ہے، مراد یہ ہے جماعت سچی ہے جس نے واقعہ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر قربانیاں دی تھیں اور واقعہ اپنے نیک اعمال کی حفاظت کے لئے یہ اقدام کئے تھے ، اس لئے ان کا نتیجہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔جماعت کی مالی قربانیوں میں حصہ لینے والا گر وہ اللہ کے فضل سے تمام نیکیوں میں صف اول میں ہے۔شاذ کے طور پر ایسے آدمی آپ کو دکھائی دیں گے جو مالی قربانی میں تو اول ہیں لیکن باقی چیزوں میں پیچھے ہیں۔بعض ایسے جن کو میں جانتا ہوں جو کمزور ہوتے ہیں اور مالی قربانی میں حصہ نہیں لیتے۔آغاز میں یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ مالی قربانی میں حصہ لینے لگے ہیں لیکن دیگر اعمال کے لحاظ سے معیاری نہیں لیکن کسی ایسے شخص کو میں نہیں جانتا جو مالی قربانی شروع کر دے اور دوسرے نیک اعمال میں محروم ہی بنا رہے۔مالی قربانی اس کے دوسرے نیک کاموں کو بھی تقویت بخشتی ہے، اس کا سلسلے سے تعلق پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے لگتا ہے۔دینی کاموں میں اس کا ذوق و شوق پہلے سے زیادہ بڑھنے لگتا ہے۔پس قرآن کریم کی یہ گواہی جماعت احمدیہ کے گزشتہ سو سالہ کردار کے آئینے میں نہ صرف قرآن کی صداقت کا اعلان کر رہی ہے بلکہ جماعت احمدیہ کی نیک نیتوں اور پاک اعمال کی صداقت کا بھی اعلان کر رہی ہے۔فرماتا ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا؟ ان کی مثال کیسی ہے؟ كَمَثَلِ جَنَّةِ بِرَبُوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ ان کی مثال ایک ایسے باغ کی طرح ہے جو بلندیوں پر واقع ہو یعنی نیچے اترائی پر نہ ہو بلکہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی چوٹیوں پر جیسے جنتیں ہوں یعنی باغات لگے ہوں ویسی ہی ان کی کیفیت ہوتی ہے۔اَصَابَهَا وَابِل ایسی جنتیں یعنی ایسے باغات جو پہاڑوں کی چوٹی پر واقع ہوتے ہیں ان کی صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ انہیں اگر تیز بارش بھی پہنچے تو ان کو نقصان نہیں کرتی۔زائد پانی نیچے بہہ جاتا ہے اور ان کی جڑوں میں کھڑا ہو کر ان کو گلا تا نہیں ہے اور ایسی جگہوں پر ویسے بھی شبنم پڑنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔پہاڑی علاقوں میں جو پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں صبح آپ جا کے دیکھیں وہ بھیگی ہوئی ہوتی ہیں شبنم سے تو فرمایا تیز بارش ہو وہ نقصان