خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 832

خطبات طاہر جلد 13 832 خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1994ء منتظمین ان ذمہ داریوں کو ادا کریں۔چنانچہ میں پہلی نصیحت تو یہ کرتا ہوں کہ ان دفاتر کی تقسیم کوملحوظ رکھتے ہوئے شعبوں کے اندر ایسے نائبین مقرر کئے جائیں جو اپنے اپنے دفتر کا الگ حساب رکھیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ جہاں اگر جماعت چھوٹی ہو اور یہ تقسیم ممکن نہ ہو تو جو بھی تحریک جدید کا سیکرٹری ہے وہی خود اپنے ذمہ یہ بات لے لے کہ وہ یادرکھے گا اور ان سب کا ریکارڈ الگ الگ رکھے گا۔جہاں تک تحریک جدید کی عمومی سال بہ سال ترقی کا تعلق ہے، خدا کے فضل سے چونکہ جماعت محض اللہ قربانیاں کر رہی ہے اور خدا کی ذات دائم ہے وہ آنی جانی نہیں ہے اس لئے جو قربانیاں اس کے تعلق سے بجالائی جاتی ہیں ان کو بھی دوام عطا ہوتا ہے، کسی وقتی جوش سے تعلق نہیں رکھتیں۔سن 1934 ء سے لے کر اب سن 1994 ء آ گیا ہے اور اس ساٹھ سالہ دور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بھی سال ایسا نہیں آیا جبکہ جماعت اس قربانی سے تھک گئی ہو اور اس کے قدم سست پڑ گئے ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ جماعت کی قربانیاں محض اللہ ہوتی ہیں اور اللہ کی ذات کے حوالے سے ان قربانیوں کو دوام ملتا ہے۔جس آیت کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی اس کا ترجمہ یہ ہے وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ کہ وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی رضا کی خواہش میں ، اس کی تمنا میں، اس کی حرص میں خرچ کرتے ہیں یعنی ان کی مالی قربانی خالصہ اللہ ہوتی ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ان کے دل میں محبت اور اشتہار پائی جاتی ہے تو ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللہ کا مطلب ہے اس خدا کی مرضیوں کو ڈھونڈنے کے لئے ، ان کی خواہش میں، ان کی لگن میں وہ مال خرچ کرتے ہیں۔وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ اور دوسری غرض ان کی یہ ہوتی ہے کہ مالی قربانی کے ذریعے ان کے ایمان تقویت پائیں اور ان کی نیکیوں کے اقدام میں ثبت پیدا ہو اور مالی قربانی سے وہ اپنے اعمال کی بھی حفاظت کریں اور ان نیک اعمال کی حفاظت کے لئے گویا یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ مالی قربانی بہت ہی مفید نتائج پیدا کرتی ہے۔یہ دو جائز اغراض ہیں اس کے سوا کسی تیسری غرض کا ذکر نہیں ہے۔اول سب سے اعلیٰ غرض اللہ کی محبت میں اس کی رضا کی خاطر اموال کو پیش کرنا تا کہ اللہ کی نظر، پیار اور محبت کے ساتھ قربانی کرنے والوں پر پڑے اور دوسرے اپنے اعمال کو جو نیک اعمال ہیں