خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 829
خطبات طاہر جلد 13 829 خطبہ جمعہ فرمود و 4 نومبر 1994ء کی تربیت کے نتیجے میں جو دین سے وابستگی پیدا ہوتی ہے وہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس بات کی محتاج نہیں رہتی کہ کون آ رہا ہے اور کون نہیں آ رہا۔اس وقت تو حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ہم تو بن بلائے بھی جانے کی کوشش کریں گے اور واقعہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک مصرعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ: اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ دن آئے نہ بنے (دیوان غالب : 296) بلانے کا محتاج نہ رہے انسان۔جب دینی مقصد کا کوئی اجتماع ہو تو اس میں ذوق وشوق سے لوگوں کا حاضر ہونا ایک دینی تقاضا ہے۔پس یہ وجہ ہے میں وضاحت کر رہا ہوں۔انہوں نے جو وعدہ کیا تھا انصار سے، ان کی طرف سے عہد شکنی کوئی نہیں ہوئی ان کو اس بات پر ملزم نہ کیا جائے۔اپنی طرف سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آخر وقت تک جو ممکن تھا انہوں نے کوشش کر دیکھی مگر یہ میری مجبوری تھی جس کی وجہ سے وہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔مجلس انصار اللہ UK میں عمومی طور پر مجھے توقع ہے کہ بیداری پیدا ہوئی ہے۔اور اس بیداری کا ایک اظہار اس اجتماع میں ایک مجلس سوال و جواب کو داخل کر کے جس میں غیر از جماعت اور غیر مسلموں کو بلایا جارہا ہے یہ اس نیک طریق پر کیا جارہا ہے اس توقع پر کہ انشاءاللہ اس کے نتیجے میں بیعتیں بھی ہوں گی اور اس معاملے میں اللہ تعالیٰ جماعت جرمنی کو جزا دے سارے یورپ کے لئے وہ نمونہ بنی ہوئی ہے۔چنانچہ صدر صاحب انصار اللہ نے جب اس خصوصی اجلاس کو عام دستور سے ہٹ کر جو یہاں کا دستور تھا، انصار اللہ کے اس اجتماع میں شامل کرنے کی درخواست کی تو خود ہی یہ کہا کہ جرمنی کو دیکھ کر ہمارے دل میں بھی جوش پیدا ہوا ہے کہ ہم بھی ایسے اجتماعات اپنے سالانہ اجتماع کا ایک مستقل جزو بنا لیں۔تو اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزا دے اور زیادہ سے زیادہ غیر۔مسلموں کو خصوصیت سے اور غیر احمدی مہمانوں کو بھی اس میں شامل ہونے کی توفیق بخشے۔انصار اللہ کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں باقی ساری مجالس سے زیادہ ہیں۔اس کے متعلق میں تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ آج تحریک جدید کے نئے سال کے آغاز کے اعلان کا دن ہے۔صرف دو تین نکتے جو پہلے بھی عرض کر چکا ہوں وہ آپ کو یاد دلاتا ہوں۔انصار کی عمر وہ عمر ہے جس کے بعد کسی اور مجلس میں شامل نہیں ہونا بلکہ دوسری دنیا کی طرف رخصت ہونا ہے۔اس لئے جو دینی کاموں میں کمزوریاں رہ گئی ہیں ان کو دور کرنا اور ان کا ازالہ کرنا جس حد