خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 830
خطبات طاہر جلد 13 830 خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1994ء تک ممکن ہے انصار کو کرنا چاہئے کیونکہ پھر اس کے بعد دوبارہ یہاں واپس نہیں آنا اور اس پہلو سے خدام اور دوسرے ذیلی شعبوں سے مجلس انصار اللہ کو زیادہ مستعد ہونا چاہئے اور زیادہ ان کے دل پر بوجھ پڑنا چاہئے۔انبیاء کا سب کا یہی حال رہا ہے۔جوں جوں عمر بڑھتی ہے اور بڑھاپے کی عمر میں وہ داخل ہوتے ہیں کام کی ذمہ داریاں ان پر بڑھتی چلی جاتی ہیں اور پہلے سے زیادہ محنت اٹھاتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بھی یہی روایتیں ہیں کہ آخری ایام میں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی شخص غروب ہوتے ہوئے سورج پر نظر کرتے ہوئے جبکہ ابھی منزل دور ہو بہت تیزی سے قدم اٹھاتا ہے اور بار بار توجہ کرتا ہے کہ کہیں دن غروب نہ ہو جائے۔اس کیفیت سے آپ نے آخری عمر میں کاموں کے بوجھ زیادہ بڑھالئے اور زیادہ اس احساس کے ساتھ کہ جو کچھ بھی اب مجھ سے ممکن ہے میں کرلوں ، ان کی ذمہ داریاں ادا فرمائیں۔پس انصار کا ایک یہ پہلو ہے جو پیش نظر رہنا چاہئے۔دوسرا یہ کہ انصار کی ذمہ داریوں میں طبعی طور پر ان سے پلی تمام نسلوں کی ذمہ داریاں داخل ہیں۔بچوں کی تربیت میں بھی انصار سب سے اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں، خواتین کی تربیت میں بھی انصارسب سے اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں اس میں بالعموم نفس کی ملونی کا خطرہ باقی نہیں رہتا۔اس پہلو سے مجلس انصار اللہ کو مستعد بھی ہونا چاہئے اور اپنی ذیلی تنظیموں کی تربیت پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔تربیت کے لحاظ سے ذمہ داری ادا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خدام الاحمدیہ کے انتظام میں دخل دیں، لجنہ کے انتظام میں دخل دیں بلکہ گھر کے بڑوں کے طور پر، ایک معزز شہری کے طور پر جس حد تک نیک نصیحت کے ذریعے وہ اپنی سے مچلی نسلوں کی تربیت کے کام سرانجام دے سکتے ہیں ان کو دینے چاہئیں۔اب میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں نے بیان کیا ہے کہ نئے سال کا تحریک جدید کا اعلان ہونا ہے۔الحمد للہ کہ تحریک جدید دفتر اول ساٹھ سال پورے کر چکا ہے اور دفتر دوم پچاس سال پورے کر چکا ہے۔دفتر سوم انتیس سال اور دفتر چہارم نو سال۔اور اب یہ اپنے اکسٹھویں، اکاونویں، تیسویں اور دسویں سال میں داخل ہوں گے۔دفتروں کا جہاں تک تعلق ہے اس سلسلے میں میں نے رپورٹوں پر نظر کر کے محسوس کیا ہے کہ