خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 823 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 823

خطبات طاہر جلد 13 823 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1994ء سکتا ہے۔تو یہاں اللہ کے لئے سے مراد یہ ہے اللہ کے لئے آپ کی نیتوں کا خالص اور پاک ہو جانا اس میں کوئی غیر اللہ کی ملونی نہ رہے۔ولرسوله اور رسول کے لئے بھی اپنے اخلاص کو کامل کر دیں اور پاک کرلیں۔ولائمۃ المسلمین یہاں دونوں معنے داخل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کے اماموں کے لئے بھی پاک خیالات رکھیں خیر خواہی کے جذبات رکھیں اور ان سے بھی اخلاص کا تعلق رکھیں امتہ المسلمین کے لئے بھی پاک صاف خیالات رکھیں اور ان سے بھی حسن سلوک کا وعامتهم اور عامة ا معاملہ کریں ان کی خیر خواہی چاہیں۔فرمایا یہ وہ چیزیں ہیں جو جنت میں داخل کرنے کے لئے ضروری ہیں اور خلاصہ یہ ہے کہ نصیحت یعنی اخلاص اور خیر خواہی کا تعلق یہی وہ باتیں ہیں جو انسان کو جنت عطا کرنے والی ہیں۔یہ حدیث، میں نے بیان کر دیا ہے مسلم سے لی گئی تھی۔اب یہ دوسری حدیث ہے یہ بھی مسلم ہی سے لی گئی ہے کتاب البر والصلۃ باب فضل الرفق۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا زَوْجِ النَّبِي الا الله۔قَالَ: إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ۔(مسلم کتاب البر والصلہ حدیث نمبر : 4698) کہ آنحضرت ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی چیز میں جتنا بھی رفق اور نرمی اتنا ہی اس کے لئے زینت کا موجب بن جاتا ہے اور جس سے رفق صلى الله اور نرمی چھین لی جائے وہ اتنی ہی بدنما ہو جاتی ہے۔زَانَہ کا مطلب ہے اسے زینت بخشی اور شانہ کا مطلب ہے اس میں داغ لگا دیا اسے داغ دار کر دیا اس میں بدصورتی پیدا کر دی۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم امت میں رفق اور نرمی کو عام کرنا چاہتے تھے اور سمجھانا چاہتے تھے اور سمجھاتے رہے اور آج بھی آپ کا یہی پیغام ہے کہ اگر تم اپنے اعمال کو زینت بخشا چاہتے ہو تو اپنے اندرنرمی کی عادت ڈالو اور سخت گیری اختیار نہ کرو اور ایک مبلغ کے لئے تو بہت ہی اہم ہے کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں نرمی کی عادت ڈالے مشکل یہ ہے کہ اگر ایک انسان ایسے ماں باپ کے گھر میں پلتا ہے جو آپس میں ہمیشہ سخت کلامی کرتے رہے ترش روئی سے کام لیتے رہے تو بہت بعید بات ہے کہ کہ ان کے بچے بڑے ہو کر نرمی اختیار کریں گے تو نصیحت سن کر اس پر عمل کی خواہش کرنا یا ادب سے یہ سوچنا کہ رسول اللہ کا کلام ہے مجھے کرنا چاہئے یہ ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے یہ گہرا مسئلہ ہے نرمی اور