خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 822 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 822

خطبات طاہر جلد 13 822 خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1994ء ناممکن ہے۔ان کے قریب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بیماریوں پر ، ان کی کمزوریوں پر ، ان کی تکلیفوں پر نظر رکھیں خوشیوں میں ان کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کریں، ان کے غم بانٹنے کی کوشش کریں احساس رہے کہ یہ بھی میرے ہیں میں ان کا ہوں یہ بنیادی مزاج ہے جس پر آگ حرام کی جاتی ہے اور اسی کی طرف آنحضرت ﷺے بلاتے ہیں۔چنانچہ فرمایا' تحریم، یعنی جہنم حرام ہوگی علی کل قريب هين لين سهل ہر اس شخص پر حرام ہو گی جو آسان ہے لوگوں کے لئے بزم ہے لوگوں کے لئے اور سہولت کے ساتھ مہیا ہے اور ان کی سہولتوں کا خیال رکھتا ہے وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے بندوں کے لئے نرمی اختیار کرتا ہے اور ان کے قریب رہتا ہے ، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک فرمائے گا۔پس جہنم سے بچنے کا ایک آسان نسخہ ہے اور پیارا نسخہ ہے اور دعویٰ بہت بڑا ہے کہ جہنم سے بچا دیا جائے گا تو اگر آپ غور کریں اور ان صفات کے ساتھ بندوں کے قریب ہوں جو صفات بیان فرمائی گئی ہیں تو مشکل نہیں ہے کیونکہ نرمی میں مزہ ہے، سہولت دینے میں ایک مزہ ہے اور حسن سلوک میں ایک مزہ ہے۔پس یہ مشقت کی باتیں نہیں ہیں، یہ وہ باتیں ہیں جو اپنی ذات میں لطف رکھتی ہیں تو دنیا میں بھی آپ لطف اٹھا ئیں اور جہنم سے بھی بچائے جائیں اس سے بہتر اور کیا سودا ہوسکتا ہے۔مسلم کتاب الایمان میں ہے اور اس کا بیان ہے انه لا يدخل الجنة الا المومنون کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔حضرت تمیم داری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا که دین سراسر خیر خواہی ہے اور خلوص کا نام ہے آنحضرت ﷺ کے الفاظ یہ ہیں الدين النصيحة۔قلنا لمن آپ نے فرمایا دین نصیحت ہے۔ایک نصیحت کا عام معنی ہے کسی کو نیک بات کہنا اور ایک نصیحت کا معنی ہوتا ہے سراسر خلوص اور خیر خواہی۔تو یہاں نصیحت کے یہ معنی ہیں جو درحقیقت پیش نظر ہیں۔آپ نے فرمایا الدین النصیحۃ کہ دین تو نام ہی اخلاص اور خیر خواہی کا ہے اگر اخلاص اور خیر خواہی نہیں تو دین بے معنی اور بے حقیقت ہو جاتا ہے قلنا لمن ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہے کس کے لئے ؟ خیر خواہی اور اخلاص کس کے لئے ؟ تو آپ نے فرما یالله و ولكتابه ولرسوله ولائمة المسلمين ولعامتهم عامتهم آپ نے فرمایا کہ اللہ کے لئے خیر خواہی، اللہ کے لئے خیر خواہی کا ترجمہ درست نہیں۔یہاں یہ ہونا چاہئے اللہ کے لئے خلوص نیت۔اللہ کی خیر خواہی کوئی انسان کیسے کر