خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 805
خطبات طاہر جلد 13 805 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء کے دل میں یہ تمنا ہو کہ کاش یہاں سے جاتے وقت میں اپنی اولاد کو نیک دیکھوں اور سلسلے سے وابستہ دیکھوں اور مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء اور آپ کے نظام کا عاشق دیکھوں تو یہ آپ کی سچائی کی ایک علامت ہے اور ایسے سچے دل کی دعا ئیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ پس آپ کے لئے تو یہ ایک گنجینۂ معانی ہے، ایک خزانہ ہے مطالب کا ، جو اس مصرعے میں میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے کہ یہ تمنا رکھیں کہ آپ نیک اور پاک نسل پیچھے چھوڑ کر جائیں اور وہ نسل جو آئندہ کے لئے ایک مرتے ہوئے معاشرے کی زندگی کی ضمانت بن جائے ۔ زندگی آخر کیسے ملتی ہے؟ محض عقائد سے زندگی نہیں ملا کرتی ۔ عقائد زندگی کے لئے رستے بناتے ہیں۔ پس صراط مستقیم دو طرح سے بنتی ہے ایک سچے عقیدوں سے اور دوسرا اس پر چلنے سے۔ اس کے بغیر رستہ تو بن گیا مگر اگر اس پر سفر نہ کیا تو اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں ہمیں یہ دعا سکھائی ۔ اول یہ کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہمیں وہ رستہ دکھا دے جو پاک عقائد سے بنتا ہے، جس میں کوئی رخنہ نہیں ، جس میں سارے عقائد درست ہیں، اور اس کا رخ ٹھیک ہے۔ مگر وہ رستہ نہیں جو خالی پڑا ہوا ہے۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ وه رستہ جس پر تجھ سے انعام پانے والے چلتے رہے۔ یعنی ہمیں بھی اس رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما جس کے چلنے والوں میں سب سے عظیم نام حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا نام ہے۔ ان کے پیچھے پاک انبیاء کا ایک ہجوم ہے جو آپ کے پیچھے چل رہا ہے اور ان کے پیچھے پھر صد یقین ہیں پھر شہداء ہیں پھر صالحین ہیں ۔ کیسا پاک رستہ ہے جس کی طرف پہلے ہدایت کی دعا سکھائی گئی اور پھر چلنے کی توفیق کی دعا سکھائی گئی۔ صلى الله پس آپ ان اقدار کو جو احمدیت آپ کو عطا کر رہی ہے ان کو محض اپنے عقیدوں میں اپنے ذہنوں میں جگہ نہ دیں بلکہ اعمال میں ڈھالیں تو پھر دیکھیں آپ مجسم نور بن جائیں گے ۔ قرآن کریم نے نور کے جسم کا یہ تصور پیش فرمایا ہے کہ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمُ (الحريم ) که ان کا نور سینوں میں چھپا ہوا تو نہیں رہا کرتا کہ کوئی یہ کہے کہ ہاں میں نے اللہ کا نور حاصل کر لیا ہے اور میرے دل میں ہے۔ اس نور کا کیا فائدہ؟ اس سے تو وہ جگنو بہتر ہے جو تھوڑا نور ہی سہی مگر چمکتا تو ہے کچھ نہ کچھ روشنی تو پیدا کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کے نور کی جو مثال دی ہے وہ