خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 804
خطبات طاہر جلد 13 804 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء نے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں، بڑی اقدار کے مالک تھے، سادہ لوح تھے، سادہ عادات تھے،سادہ کپڑوں میں ملبوس ہوا کرتے تھے لیکن گدڑی میں لعل اگر واقعہ کبھی کوئی انسان کی صورت میں پھرا ہے تو یہ وہی لوگ تھے جن کو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے فیض یاب ہوتے دیکھا اور پھر ان کی صحبت سے ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے فیض یاب ہوئے ، ان قدروں کو لے کر پھریں اور پھیلائیں۔اب میں اپنے افریقن بھائیوں کو بھی متوجہ ہو کر دوبارہ توجہ دلاتا ہوں کہ آپ نے اس دفعہ میرا دل بہت خوش کیا ہے کیونکہ آپ کے اندر وہ دو قسم کی تبدیلیاں میں نے دیکھی ہیں۔ایک یہ کہ ہم احمدیت کی تبلیغ کوضرور پھیلائیں گے۔دوسرے یہ کہ آپ کی نسلوں میں جماعت سے تعلق اور محبت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔یہ وہ استقلال ہے نیکیوں کا جس کی خدا ہم سے توقع رکھتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرُ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: 19) اے لوگو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور یہ نہ سمجھو کہ محض تمہاری ذات کا تقویٰ کافی ہوگا۔یاد رکھو اگلی نسل پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔جیسے خدا تم پر نظر رکھتا ہے ویسے ہی تم خدا کی نمائندگی میں اپنے بچوں پر ہر حال میں نظر رکھو اور یہ معلوم کرو کہ تم آگے کیا بھیج رہے ہو۔پس بڑا ہی خوش نصیب ہے وہ باپ اور بڑی خوش نصیب ہے وہ ماں جو دونوں اپنے پاک، نیک بچوں کو آگے بھیجتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور مصرعہ بھی میں نے کئی دفعہ دہرایا ہے اور جتنی دفعہ بھی دہرائیں اس کی لذت کم نہیں ہو سکتی۔ایک دعا میں عرض کرتے ہیں، اپنی اولاد کے حق میں دعائیں دیتے ہوئے۔کیسا پیارا کلام ہے۔کوئی بدنصیب ہی ہو گا جو ایسے شخص کو جھوٹا سمجھے جس کے منہ سے یہ مصرعہ نکلے کہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا (درشین : 48) عجیب کلام ہے۔کوئی جھوٹا آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں خدا سے یہ مانگوں کہ جب میں رخصت ہو رہا ہوں تو دنیا پر میری نظر اس طرح پڑ رہی ہو کہ میری اولا د نیک اور متقی ہو چکی ہو اور تیری نظر میں ، تیری بارگاہ میں مقام حاصل کر چکی ہو۔تو یہ ایک بہت ہی عظیم صداقت ہے جس سے ہماری اپنی صداقتیں پہچانی جاتی ہیں اگر آپ