خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 801
خطبات طاہر جلد 13 801 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء اس میں جو ٹیپ کا مصرعہ ہے جو بار بار دھرایا جاتا ہے سُبحَانَ مَنْ يُرَانِى اس میں آتا ہے۔میں قربان اس ذات کے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی بڑا ہی پاک ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے اس پر جتنا بھی غور کریں کم ہے۔بہت ہی گہرا کلام ہے اور زندگی میں عمل کے پیچھے جونیتیں ہیں ان سب پر حاوی ہے اور اصلاح احوال کی چابی اس میں ہے۔ہرانسان دوسرے کی نظر کے لئے حساس ہوتا ہے۔تنہائی میں جو چاہے کر لے لیکن جب نظر میں آجائے تو پھر اسے ایک فکر ہوتی ہے کہ میں دیکھنے والے کی نظر کے معیار کے مطابق اپنے آپ کو بناؤں۔اب مادہ پرست دنیا میں رہتے ہوئے دیکھنے والے کی نظر سُبحان نہیں ہے۔اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی وہ تو بد نظریں ہیں ، وہ تو بگڑی ہوئی نگا ہیں ہیں۔وہ جو آپ سے توقعات رکھیں گی وہ بدی اور بگاڑ کی توقعات ہوں گی اور اگر آپ ان کی نظروں میں رہتے ہیں تو پھر آپ محفوظ نہیں ہیں اور اگر آپ کو یہ احساس ہی نہیں کہ ایک اور نظر بھی ہے جو دیکھ رہی ہے تو سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی جو پاک نظر ہے اور ہر حال میں آپ کو دیکھتی ہے، تنہائیاں بھی آپ کی اس نظر سے الگ نہیں رہتیں۔تو یہ وہ نظر جو مادہ پرستی کی ، دنیا کی نظر ہے وہ اس کے سامنے بالکل اس طرح غائب ہو جائے گی جیسے کوئی چیز فضا میں تحلیل ہو کر نظر سے دور ہو جائے۔کچھ بھی اس کا پھر رفتہ رفتہ وجود نہیں رہتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام آپ کی صداقت کا عجیب ثبوت ہے لیکن یہ جو ٹکڑا ہے جب میں اس پر پہنچ جاتا ہوں تو میری روح وجد میں آ جاتی ہے۔عجیب کلام ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی۔پاک ہے وہ ذات جو ہر حال میں مجھ پہ نظر رکھ رہی ہے اور پاک نظر ہر حال میں اسی پہ پڑتی ہے جس کے اعمال پاک ہوں ، جس کی نیتیں پاک ہوں کیونکہ پاک نظر کو بدی دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہوتا۔پس اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جتنا آپ پاک ہوتے چلے جائیں گے اتنا ہی پاک نظر میں آتے چلے جائیں گے اور جب پاک نظر میں آجائیں تو بد نظر کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں رہتی۔وہ آپ کو پرانے زمانے کا سمجھیں، جو کچھ کہیں۔آپ کو کیا پر واہ ہے اگر اللہ کی نظر آپ پر ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اس نظر کی ایک قدر ہمارے دل میں ہے دوسری نظروں کی کوئی قدر نہیں ہے۔میں نے کئی دفعہ حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال جماعت کے سامنے رکھی ہے۔وہ