خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد 13 799 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء گھل جائے گا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو جنت کی طرف چلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ عین جنت کے دروازوں پہ پہنچ جاتے ہیں مگر پھر کوئی ایک بات ان میں ایسی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں پرے دھکیلنا شروع کرتا ہے اور یہاں تک کہ وہ دور ہٹتے ہٹتے جہنم کی طرف رخ اختیار کر جاتے ہیں۔(مشکوۃ) وہ بنیادی باتیں جو خدا کی محبت اور غیرت سے تعلق رکھتی ہوں اور تصادم کے وقت جن کی آزمائش ہو وہ باتیں ہیں جن میں انسان کے دل کی گہرائی میں موجود نیکی ضرور اپنا اثر دکھاتی ہے اور دل کی گہرائی میں موجود بدی ضرو رنگی ہوکر باہر جاتی ہے۔احساس کمتری کیوں اور کس وجہ سے؟ معاشرے سے شرمندہ ہو، اس خیال سے کہ اسلام نے ہمیں آئندہ زمانوں سے پیچھے رکھا ہوا ہے۔اگر یہ بات ہے تو پھر خدا پر ایمان متزلزل ہو چکا ہے۔اگر یہ بات ہے تو آپ کو مزید مطالعہ کی ضرورت ہے کہ کسی ایسے خدا سے تعلق رکھنا مناسب بھی ہے کہ نہیں جو قدیم زمانوں کے لئے تو موزوں تھا موجودہ زمانے کے لئے ایک قدیم چیز بن چکا ہے۔یہ ایک تصادم ہے، اعتقاد کا تصادم ہے۔جو آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں آپ کے طرز عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔پس اس پہلو سے اپنا گہری نظر سے جائزہ لیتے رہیں اور اپنے اعمال پر نگاہ رکھیں کیونکہ سب سے بڑا صلى الله شر جس سے بچنے کے لئے حضرت محمد مصطفی یہ دعا کیا کرتے تھے اور ہمیں سکھاتے رہتے تھے اور خطبات میں وہ دعا پڑھا کرتے تھے وہ ہے مِن شُرُورِ أَنْفُسِنَا ( نسائی کتاب الجمعہ حدیث : 1387) اے خدا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں خصوصیت سے اپنے نفسوں کے شر سے کیونکہ نفس کا شر جب حملہ کرتا ہے تو دکھائی نہیں دیتا اندر سے دوست بن کر اٹھتا ہے اور بظاہر دوستی کے رنگ میں نیک مشورہ دیتا ہے۔پس اگر آپ قرآن کریم میں شیطان کے حملوں کا ذکر پڑھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ بعینہ یہی نقشہ شیطان کے حملوں کا قرآن میں کھینچا گیا ہے کہ وہ ان طرفوں سے آتا ہے جہاں تم اس کو دیکھ نہیں سکتے اور اگر حملہ آور دکھائی نہ دے تو اس سے بچاؤ کے کوئی سامان نہیں۔پس جب یہ دعا پڑھی جاتی ہے اور ہمیں تاکید سے لکھائی گئی ہے کہ اے خدا ہم اپنے نفسوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں اور تیری پناہ میں آتے ہیں تو تو ہماری حفاظت فرما کیونکہ تو دیکھ رہا ہے اور ہم نہیں دیکھ رہے۔پس یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن مثالیں وہی ہیں کہ شیطان نے نفس کے اندر سے اپنا بن کر، ہمدرد ہو کر ایک مشورہ دیا ہے اور آپ نے اسے قبول کر لیا ہے۔جبکہ جانتے ہیں کہ اس کے مقابل