خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد 13 798 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء بسا اوقات خرابی مردوں میں ہوتی ہے۔بعض ایسے خاندان ہیں جن کی شادیاں ایک ایسے خاندان میں ہوئیں جن کے لڑکے اللہ کے فضل سے یہاں آنے کے بعد بڑے مخلص اور جماعت کے کاموں میں پیش پیش تھے مگر احساس کمتری میں مبتلا۔چنانچہ ان کی لڑکیاں جب وہاں بیاہی گئیں تو مردوں نے کہا کہ ہمارے لئے تو بڑی ذلت کی بات ہے کہ تم پردہ کر کے رہو یا ایسا لباس ہی پہنو کہ لوگوں سے الگ چھپتی پھر و یا ہمارے ساتھ مل کر مکس پارٹیوں میں نہ جاؤ۔ہم نیک ہیں، مخلص ہیں، چندے دیتے ہیں لیکن یہ بات ہمیں پسند نہیں کہ تم پرانے زمانے کی قدروں کو ہمارے اوپر وارد کرو۔ایسی ایک ماں نے مجھ سے ذکر کیا، وہ رو رہی تھی کہ میں کیا کروں، میری بچی کا بہت برا حال ہے اور بڑی تکلیف میں ہے اور وہ یہاں تک بھی تیار ہے کہ اپنے خاوند کو کہہ دے کہ اگر یہ بات ہے تو میں دنیا کی خاطر اسلام کی قدروں کو قربان نہیں کروں گی کیونکہ میں عہد کر چکی ہوں کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی۔اس لئے تم سے محبت الگ تمہاری نیکیاں اپنی جگہ مگر میں تمہارے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔مجھ سے انہوں نے پوچھا میں نے کہا جو بات اسلام کی محبت اور اسلامی قدروں کی غیرت کے نتیجے میں کسی احمدی بچی کے دل میں پیدا ہوتی ہے میں اس کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں اور آج اگر یہ ہے تو کل یہ بات اور بھی بگڑ سکتی ہے۔کل بچے بھی پیدا ہوں گے ان کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔آج یہ تربیت یافتہ بچی اگر اپنی عصمت کی حفاظت کر سکتی ہے تو ایک کھلے کھلے ماحول میں آئندہ بچوں کی تو کوئی ضمانت نہیں ہے۔اس لئے جو سودا ہے یہ لمبا سودا ہے اور احتیاط کے جو تقاضے ہیں انہیں پورا کرنا چاہئے۔مگر اصل بات یہ ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ اگر اپنے نفس پر غور کریں تو ان کو یقین ہو جائے گا کہ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہیں نیکی وہاں کرنا جہاں دوسروں کے سامنے وہ نیکی شرمندگی کا موجب نہ ہو، ایسی نیکی ایک اپنا مقام رکھتی ہے لیکن نیکی وہاں کرنا جہاں دوسروں کے سامنے وہ نیکی شرمندگی کا موجب ہو وہ اصل مقام ہے جہاں نیکی پہچانی جاتی ہے، جہاں نیکی کا امتحان ہوتا ہے اور ان راہوں پر یہ خیال کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور یہ خیال کہ دنیا مجھے دیکھ رہی ہے ان دونوں خیالات کا ایک ٹکراؤ ہوتا ہے۔اس تصادم کے نتیجے میں جو بھی شخصیت ظاہر ہوتی ہے وہ یاد نیا دار شخصیت ہے یا دین دار شخصیت ہے اور ایک دفعہ اگر آپ اس تصادم میں خدا کے تصور کو پرے پھینک دیں اور دنیا کی آنکھ کی قدر کریں تو آپ کا ظاہری نیکیوں کا خول بھی رفتہ رفتہ