خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 797
خطبات طاہر جلد 13 797 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء ہو جاتا ہے لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ آئندہ ایسی احتیاط کریں ورنہ مجھے ایسی مجلسوں میں نہ بلایا کریں۔احمدی خواتین کو جتنا ان کا بنیادی ضروری حق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں نے ہر موقع پر دیا اور اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ ہماری جماعت میں جو زیادہ مولویانہ ذہن رکھتے ہیں وہ مجھ پر کیا کیا اعتراض کریں گے اور کیسے کیسے حملے کریں گے۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ وہ جو مولویانہ ذہن رکھتے تھے ان کے اندر بھی کچھ ایسی پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں کہ اب ان کی زبانیں اس طرح نہیں کھلتیں جیسے بعض زمانوں میں کھلا کرتی تھیں اور نظام جماعت کے احترام کے لئے جتناز ور دیا گیا ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا نتیجہ ظاہر ہوا ہے۔شاذ کے طور پر کبھی مجھے خطوں میں یہ بات لکھ دی جاتی ہے جو کسی کو نا پسند ہو اور میں خطوں ہی میں اس کا جواب دے دیتا ہوں کیونکہ اکثر مجھے معلوم ہے کہ اب وہ بات نہیں کہ مجلسوں میں بیٹھ کر لوگ طعن و تشنیع کریں اور احمدی آرام سے ان کو قبول کریں۔اب احمدی غیرت کا معیار بھی خدا کے فضل سے اتنا بلند ہو گیا ہے اور خلافت کے ساتھ ذاتی تعلق اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن بڑھتا چلا جارہا ہے۔بجائے کم ہونے کے میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کا معیار بہت بلند ہو رہا ہے۔اس وجہ سے اب اگر کوئی بیمار دل ہے بھی تو اسے جرات نہیں ہے کہ کسی احمدی مجلس میں اس طرح خلافت کے کسی کردار کو یا نظام جماعت کو تضحیک کا نشانہ بنائے اور لوگ سن لیں۔اس لئے بعض بیماریاں وقتی طور پر ان کے لئے ناخوش گوار ماحول کی وجہ سے دبی رہتی ہیں، دب جاتی ہیں مگر چونکہ اپنے طور پر لوگوں کی نظر سے ہٹ کر مجھے خط لکھنا آسان ہے اس لئے ایسے لوگ اپنے دل کا غصہ خطوں کے ذریعے نکال لیتے ہیں مگر بہت کم ہورہے ہیں اور جو نکالتے ہیں ان کو جب میں جواب دے کر سمجھا تا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ شاذ کے طور پر ہی کوئی ہوگا جو اس کو قبول نہ کرے ورنہ اکثر معذرت کا بھی اظہار کرتے ہیں، کہتے ہیں ہمیں بات کی سمجھ نہیں آسکی تھی، اب سمجھ گئے ہیں اور مطمئن ہیں۔تو یہ بات ہے جس کے پیش نظر اس موقع پر میرے لئے ضروری تھا کیونکہ یہ ایک پبلک اظہار تھا، یہ کوئی پرائیویٹ خطا نہیں تھا اور عام کھلے بندوں اگر کوئی ایسا اظہار ہو جس میں میں موجود ہوں اور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار نہ کروں ، خواہ اس وقت نہیں تو بعد میں سہی تو آئندہ جماعت کی تاریخ بگڑ جائے گی اور اسلامی قدروں کی حفاظت ہمارے لئے آسان نہیں رہے گی۔اس لئے قطعاً اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ دنیا آپ کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔