خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 795 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 795

خطبات طاہر جلد 13 795 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء اسلام نے جو خدا کا تصور پیش کیا ہے یہ اس لائق ہے کہ جان دے کر بھی ملے تو لیا جائے، یہ ایک انمول خزانہ ہے۔پس احمدیت کچھ تو عقائد سے وابستہ ہے اور وہ عقائد بھی اللہ کے فضل سے روشن اور زندہ رہنے والے اور غالب آنے والے ہیں۔لیکن کچھ قدروں سے وابستہ ہے جو ہماری ذات میں زندہ رہتی ہیں۔ان قدروں کو زندہ رکھیں گے تو آپ کے عقائد میں دنیا دلچسپی لے گی ورنہ عقائد کیسے ہی روشن اور مضبوط اور دلائل میں قوی کیوں نہ ہوں، دلائل کے قومی سہارے کیوں نہ رکھتے ہوں ، عقائد کی طرف توجہ نہیں جایا کرتی جب تک ان عقائد کے رکھنے والوں کے عظیم کردار کا انسان مشاہدہ نہ کرے۔پس اس پہلو سے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ان خاندانوں کو جو بہت بزرگ لوگوں کی اولاد تھے۔مشہور نہیں بھی تھے تو بزرگ تھے، سادہ غریبانہ کپڑوں میں پھرنے والے اہل اللہ لوگ تھے جن کی دعائیں قبول ہوتی تھیں، جن پر دن رات اللہ تعالیٰ کی قربت کے نشان اترا کرتے تھے۔ان لوگوں کی نسلوں کو ان کے آباؤ اجداد کا روشن ماضی تو بتائیں تا کہ اس روشنی سے کچھ حصہ لے کر ان کا حال روشن ہو جائے اور وہ اس دنیا کے اندھیروں کو اس مستعار روشنی کے ذریعے روشن کر سکیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔اگر یہ جماعت نے منظم کوشش نہ کی تو مجھے ڈر ہے کہ یہاں کا معاشرہ ایسا ہے، یہاں کی تہذیب ایسی ہے کہ لوگ سرکتے سرکتے ، رفتہ رفتہ دور ہٹنے لگیں گے اور بہت نہیں تو کم سہی مگر ہیں ضرور جو ہٹ چکے ہیں اور جہاں ماں باپ کی نظریں بدلیں وہاں اولاد کی نظریں اور زیادہ بدل جاتی ہیں۔پس ان قدروں کی حفاظت کے لئے آپ جتنی بھی توجہ کریں گے کم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جہاں تک لاس اینجلس اور واشنگٹن اور دیگر جگہوں پہ جلسوں کا انتظام تھا اور جلسے نہیں تھے تو مل بیٹھنے کا انتظام تھا۔وہاں سب جگہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جماعت نے غیروں کے ساتھ ملاپ میں کسی قسم کا احساس کمتری نہیں دکھایا اور پردے کا خیال رکھا۔احمدی خواتین الگ بیٹھتی تھیں اور مہمان مرد الگ بیٹھتے تھے اور ہر پہلو سے اس کو کھل کر بڑے فخر ، یعنی فخر کے معنی تکبر نہیں ، بلکہ اس احساس کے ساتھ کہ ہماری قدر اونچی ہے، انہوں نے اس پر عمل کیا اور کہیں بھی مجھے کوئی کسی قسم کی شرمندگی دکھائی نہیں دی ، کہ اوہو یہ تو مغربی تہذیب ہے لوگ کیا کہیں گے ، یہ عورتیں کیسی ہیں ، یہ الگ کیوں بیٹھی ہوئی ہیں، ان کے مرد کیسے بدھو اور جاہل ہیں کہ اپنی عورتوں کی نمائش نہیں کر رہے۔کوئی ایسا تصور ان کے