خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 73
خطبات طاہر جلد 13 73 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 /جنوری 1994ء کہتے ہیں بتاؤ تمہاری جائے نفرت کیا ہے یہ کیا چیز ہے جس کا ذکر کر رہے ہیں اور پھر جو بکواس ان کے منہ میں آتی ہے کہتے ہیں اور حضرت داؤد کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ گلیوں کی زبانیں تضحیک کا نشانہ بناتی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کہنا کہ خدا نے مجھے بھی اس زمانے کا داؤد بنایا ہے اس لحاظ سے لفظاً لفظا پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مناجات کی میں چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ عرض کرتے ہیں :۔اوراے میرے خدا میں ایک تیرا نا کارہ بندہ پر معصیت اور پر غفلت ہوں تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔سواب بھی مجھے نالائق اور پر گناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے چارہ گر کوئی نہیں۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے رب کے حضور عرض کرتے ہیں:۔”اے رب العالمین! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں میرے گناہ بخش تا کہ میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔“ ہر مقدس جانتا ہے کہ اس کی روحانی زندگی خدا کے فضل سے وابستہ ہے۔حضرت داؤڈ نے جود عا کی کہ میں گور میں نہ چلا جاؤں اور نہ کیا مٹی تیری ستائش کرے گی وہی مضمون ہے کہ : میں ہر دم تیری ثناء کر رہا ہوں مجھے ہلاک نہ ہونے دینا میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے رب کے حضور عرض کرتے ہیں:۔