خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد 13 74 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء ”اے خدا تعالیٰ ! قادر و ذوالجلال! میں گنہگار ہوں اور اس قدر گناہ کے زہر نے میرے دل اور رگ وریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں۔“ یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان لوگوں کو سکھائی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہتے تھے کہ ہمیں وہ کیفیت نصیب نہیں ہوتی جس کیفیت کے ساتھ خدا کی محبت میں ایک لذت پیدا ہو جائے اور ہماری دعا ئیں جاگ اٹھیں اور زندہ ہو جائیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے جواب میں ان کو یہ نسخہ لکھ کر دیا ہے۔(فتادی مسیح موعود صفحہ ۳۶) پر درج ہے کہ یوں دعا کیا کرو۔اب رقت اور حضور نماز کا حاصل نہ ہونا یہ ایک روزمرہ کی عام بات ہے جو دنیا کے اکثر نمازیوں کا روز مرہ تجربہ ہے پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اس بیماری سے نجات کا نسخہ لکھ رہے ہیں اس میں اسے ایک ایسی کیفیت قرار دیتے ہیں جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ رگ وریشہ میں زہر سرایت کر جائے۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے ٹھہر کر سمجھنا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا کلام یونہی کسی نثر نگار کا کلام نہیں جو سجا سجا کر جو بات ذہن میں آئے اپنی نثر کو سجانے کے لئے پیش کر دیتا ہے اس میں گہری حکمت ہوتی ہے اور حقیقت ہوتی ہے امر واقع یہ ہے کہ نمازوں میں لذت اس وقت نصیب نہیں ہوتی جبکہ انسان کی ساری لذت کی تمنا ئیں دنیا کی طرف مائل ہو چکی ہوتی ہیں۔اس کا صبح اٹھنا، اس کا رات کو سونا، ایسی امنگوں اور خوابوں میں اور اپنے نفس کے ساتھ باتوں کے ساتھ ہوتا ہے جس میں دنیا طلبی کی باتیں ہوتی ہیں۔آج مجھے یہ بھی مل جائے آج مجھے وہ بھی مل جائے۔آج میرا یہ کام پورا ہو، آج میں اس طرح اپنے محبوب کو پاؤں، اس طرح اس کے ساتھ وصل کی راتیں کئیں وغیرہ وغیرہ یا اس سے ملتے جلتے دوسرے مضمون۔ساری زندگی اسی طرح روز وشب میں کٹ جاتی ہے۔وہ روز مرہ کی تمنائیں اسے گھیرے رکھتی ہیں ، ان کے ساتھ سوتا ہے، ان کے ساتھ جاگتا ہے پھر نماز میں سرور کیسے پا سکتا ہے۔کبھی سوتے جاگتے اللہ کا ذکر بھی تو کرے از خود اس کی طرف دھیان جائے جیسا کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی مثالیں میں نے آپ کے سامنے رکھی تھیں۔رات کو خدا کے ذکر کے ساتھ سویا کرتے تھے صبح اس ذکر کے ساتھ اٹھتے تھے اور ساری رات اسی ذکر میں صرف ہوا کرتی تھی۔پس ایسے شخص کی عبادت ذکر سے زندہ ہو جایا کرتی ہے۔اس