خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 782
خطبات طاہر جلد 13 782 خطبه جمعه فرمود : 14 اکتوبر 1994ء سیکھوں وہ بے تکلف اپنی مرضی کی باتیں کرتا ہے اپنی موجوں میں لگا ہوتا ہے ماں باپ اس کا منہ ہلا ہلا کر اپنی طرف کرتے ہیں کہ بیٹا یہ لفظ بولو، کبھی بولتا ہے کبھی نہیں بولتا اس کو کوئی پرواہ نہیں لیکن خدا نے جو نظام بنایا ہے یہ اتنا قوی ہے اور اس نظام کا یہ ایک لازمی جزو ہے کہ بچہ بوجھ نہ ڈالے کیونکہ جو بوجھ ڈالے گا اور کوشش سے زبان سیکھے گا اس کی زبان میں رخنے پیدا ہو جائیں گے اس کا تعلق کوشش کے ساتھ اپنے یادداشت کے خلیوں سے فائدہ اٹھانے کی ذمہ داری اس کے اوپر عائد ہو جائے گی۔اب کوشش کے ساتھ جب آپ یادداشت کے خلیوں سے استفادہ کرتے ہیں تو بسا اوقات مشکل پڑ جاتی ہے کوئی لفظ یاد نہیں آتا کبھی ادھر بھاگتے ہیں کبھی ادھر بھاگتے ہیں اور جتنی زبانیں بھی آپ دوسری زبانوں کے ترجموں سے سیکھتے ہیں ان میں ذہن مستقل ترجمے کر رہا ہوتا ہے اور جو زبان خود اگتی ہے، خود رو پودے کی طرح آپ کے ذہن کے Soil سے پیدا ہوتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے اس کو مادری زبان کہتے ہیں۔وہ غلط بھی ہو اس میں خود روئیت کا ایک حسن پایا جاتا ہے اس لئے یہ ضروری نہیں کہ ہر انگریز بہت اچھی انگریزی بولتا ہو۔وہ اگر بولتا ہے تو پورے یقین کے ساتھ کہ یہ میری سرزمین ہے میں جو کہتا ہوں کہہ سکتا ہوں اور لوگوں کو اس کا لطف آتا ہے۔ایک عرب جو ہے جیسے وہ عربی بولتا ہے دوسرے کے سہارے سے سیکھے ہوئے عربی دان وہ بات پیدا نہیں کر سکتے۔تو اس لئے بھی میں نے یہ سوچا تھا کہ خدا کے قائم کردہ نظام کے مطابق ترجمے کا پروگرام بنایا جائے یعنی زبانیں سکھانے کا پروگرام بنایا جائے۔اب تک گیارہ اسباق دیئے جاچکے ہیں اور اس دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے مثلاً وہ روسی ہمارے راویل صاحب جن کو ایک لفظ بھی اردو کا نہیں آتا تھا کئی فقرے اردو کے خود بخود بولنے لگے۔باتوں باتوں میں بے ساختہ ان کے منہ سے بعض فقرے پھوٹتے ہیں اور بالکل صحیح پھوٹتے ہیں ، سوال کر سکتے ہیں تو یہ ان سب کو اطمینان ہو چکا ہے کہ اس طرح وہ ہر زبان سکھا سکتے ہیں۔چنانچہ یہ وڈیو تقسیم کر دی گئی ہیں اہل زبان میں۔اب اس پروگرام کو دیکھ کر ایک انگریز انگریزی سکھائے گا اور بظاہر میں بول رہا ہوں گا لیکن آواز اس انگریز کی ہوگی انگریزی کے وقت۔اور عثمان چینی صاحب، چینی سکھائیں گے اگر چہ وہ مختلف ہیں میں مختلف ہوں لیکن میری زبان سے آپ چینی لفظ سنیں گے کیونکہ وہ حرکتیں ایک ہی ہیں اور طرز بیان ایک ہے اس لئے ہر آدمی انہی حرکتوں، اسی طرز بیان سے مختلف زبانیں سیکھ رہا ہو گا۔فرنچ بھی آپ مجھ سے سیکھ رہے ہوں گے بظاہر اور جرمن بھی سیکھ رہے ہوں گے اور Spanish