خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 765
خطبات طاہر جلد 13 765 خطبہ جمعہ فرمودہ 7/اکتوبر 1994ء پڑتا ہے، مگر انسان آزمائش میں پڑ کے اپنے خدا کوکھو دے یہ بہت ہی بُرا سودا ہے اور پھر بے کا رسودا، بے معنی اور لغو کیونکہ اگر آپ روئیں پیٹیں ، تب بھی آپ کا کھویا ہوا عزیز آپ کو نہیں ملے گا۔نہ روئیں پیٹیں ، تب بھی نہیں ملے گا تو آپ کے لئے تو چارہ کوئی نہیں ہے۔اختیار ہو تو انسان کوشش کرے اختیار ہی کوئی نہیں ہے اس لئے محض گناہ بے لذت اور بے وقوفی ہے ایسے موقع پر جب انسان کچھ کھو دے خواہ وہ پورا وجود جاتا رہے یا کسی ایک عضو کا نقصان پہنچے، خدا کی رضا پر نظر رکھتے ہوئے عرض کرے کہ جو کچھ ہے تیرا ہے تو نے جتنا چاہا لے لیا۔٤ بلانے والا سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر تو ایسے بندے خدا کو عزیز تر ہو جاتے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس رہتا ہے اس کو بہت برکت دی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو سلوک فرمایا ہے وہ ایک زندہ مثال ہے۔کیا آپ نے خدا کی خاطر قربانیاں کیں۔ظاہر میں تو کچھ بھی نہیں تھیں۔فرماتے ہیں ، میں بچپن میں جو روٹی مجھے ملا کرتی تھی اپنے غریب بھائیوں میں بانٹ دیا کرتا تھا۔بعض دفعہ چنے کھا کر گزارہ کر لیتا تھا۔پھر فرماتے ہیں کہ گھر کی بچی ہوئی روٹیاں مجھے ملا کرتی تھیں وہ کیا چیز تھی جو قربان کی گئی چند روٹیاں ہی تھیں نا۔لیکن جتنا اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے اور جماعت کو پھر عطا فرمایا ہے اس کی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی کہ اتنے بڑے فضل ، اتنی جلدی جلدی اللہ تعالیٰ کسی بندے کی معمولی قربانیوں پر نظر ڈال کر فرمائے۔معمولی قربانیاں ظاہر کے لحاظ سے لیکن اصل قربانی جذبے کی وجہ سے عظمت پاتی ہے۔ایک انسان بعض دفعہ ایک لاکھ روپیہ، ایک لاکھ پاؤنڈ یا دس لاکھ ڈالر بھی دے سکتا ہے اور ایک آدمی دس ڈالر بھی چندہ دے دیتا ہے ہم اپنی نظر سے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں اس نے بہت بڑا کام کیا ہے اس نے بہت چھوٹا کام کیا۔اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے تو وہ اس کے پیچھے جو دل کے جذبے ہیں ان پر نظر رکھتا ہے اس لئے وہ قربانیاں جو خدا کی نظر میں مقبول ہوں وہی ہوتی ہیں جن کے پیچھے اللہ سے محبت کے اور انکساری کے جذبات کارفرما ہوتے ہیں اور قطعا اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ دنیا کی نظر میں وہ آتی ہیں کہ نہیں آتیں۔پس خدا کے حضور ثابت قدم رہنا ایک بہت بڑی نعمت اور اس کا فقدان کفر ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے بہت ہی عظیم نصیحت فرمائی ہے کہ وہ لوگ جو نوحے کرتے