خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 763
خطبات طاہر جلد 13 763 خطبہ جمعہ فرموده 7 /اکتوبر 1994ء نے توجہ دلائی ان میں اگر طعنہ زنی سے کام لیا جائے تو گھر اجڑتے ہیں قوموں کے مزاج بگڑ جایا کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس کو کفر فرمایا ہے۔فرمایا ایسا شخص خود خدا بنتا ہے خدا کا بندہ اطاعت شعار جو جانتا ہو کہ میرا ایک مالک ہے جو مجھ سے سوال کرے گا وہ کبھی ایسی کمپنی حرکتیں نہیں کر سکتا۔دوسری چیز جسے کفر قرار دیا گیا وہ میت پر نوحہ کرنا ہے (مسلم کتاب الایمان حدیث: 100)۔اب ہمارے روز مرہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں لوگوں کے عزیز فوت ہوتے ہیں، حادثات میں گزر جاتے ہیں۔کئی مائیں ایسی ہیں بے چاری جن کا ایک ہی جوان بیٹا کسی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔مگر اس پر بے صبری کر کے نوحہ کرنا یہ وہ بات ہے جسے آنحضرت ﷺ نے کفر قرار دیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہر نعمت اللہ سے ملتی ہے اور مالک وہ ہے۔اس سے یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ میرا ایک ہی بیٹا تھا تو نے کیوں بلالیا۔یا میرے خاوند کو جوانی میں مجھ سے کیوں جدا کر دیا اور پھر اس بات پر اگر نظر رکھی جائے کہ جس مالک نے اس ابتلاء میں ڈالا ہے وہ مالک یہ استطاعت رکھتا ہے اور قدرت رکھتا ہے کہ اس عارضی زندگی کے بعد اتنا عطا کرے کہ جو کچھ کھویا گیا ہے اس پر جو کھوئے جانے کے احساس کا غم ہے وہ بعد میں شرمندگی پیدا کرنے کا موجب بن جائے۔یا مرنے کے بعد ہی نہیں اس دنیا میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اگر کچھ کھو دیتا ہے اور اللہ کی خاطر صبر و رضا اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ ضروری نہیں کہ فورا آمنے سامنے لین دین کی طرح اسے فوراً کچھ دے دے مگر ایسے صبر کرنے والوں کو میں نے دیکھا ہے کہ ان کی زندگیاں ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اتنی بہتر ہو جاتی ہیں کہ اپنی پہلی حالت جس پر وہ روتے ہیں وہ اس کے سامنے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتی بالکل معمولی چیز ہے لگتا ہے جیسے ضائع ہوئی۔مگر اگر خدا اس دنیا میں نہ بھی دے تو وہ خدا اس دنیا کا بھی ہے اور دنیا کے بعد کی زندگی کا بھی خدا ہے دنیا کے بعد کی زندگی کے مقابل پر یہ زندگی بہت ہی چھوٹی اور بے معنی ہے۔عارضی ایک مقام ہے جو اسے ہمیشہ کا ٹھکانہ سمجھ لے اس کے اندر ناشکری پیدا ہوتی ہے۔جو یہ سمجھے کہ یہ عارضی ہے اور مجھے خدا کے حضور پہنچنا ہے، سب نے وہیں جانا ہے اس کے دل میں ایک حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ زیادہ ہمت کے ساتھ صدموں کو برداشت کر سکتا ہے۔پس جتنا خدا پر یقین کم ہو اتنا ہی انسان واویلا کرتا ہے۔یہ ایک طبعی بات ہے۔ایسے خاندان مجھے ملتے رہتے ہیں ابھی کینیڈا کے اس عارضی دورے پر بھی ایک خاندان سے میری ملاقات ہوئی جن میں ایک ماں کا بچہ بہت ہی پیارا، جوان بیٹا ہاتھ سے جاتا رہا اور