خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد 13 762 خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1994ء ایسی شکائتیں ملتی ہیں۔بعض عورتیں ہیں وہ اپنے خاوند کو ہمیشہ یہ طعنہ دیتی رہتی ہیں کہ میں تو اپنے گھر میں ایسی تھی ، ہمارا گھر تو ایسا بلند مرتبہ تھا، ہم تو اس طرح لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور مہمان نوازیاں کیا کرتے تھے، ہم نے تو کبھی کسی کا احسان نہیں لیا تم لوگ پتا نہیں کس کمینے خاندان سے آئے ہو جو زیر احسان لوگوں کے نیچے جھکنے والے اور سر جھکانے والے، ہم ایسے نہیں ہیں۔ایسی ہی بعض عورتیں اپنی زندگی اجاڑ دیتی ہیں۔بعض با غیرت مرد برداشت نہیں کر سکتے وہ کہتے ہیں اچھا پھر جیسے معزز خاندان سے آئی ہو اسی معزز خاندان میں واپس چلی جاؤ، مجھے ذلیل آدمی سے شادی کیوں کی تھی اور بعض لوگ بے چارے دب جاتے ہیں اور بالکل سر نہیں اٹھا سکتے۔ان کا گھر تو قائم رہتا ہے لیکن معاشرے میں وہ ذلیل ہو جاتے ہیں کیونکہ ایسی بیوی کے تابع جو مرد آ جائے جو کمینی باتیں کرے اس کا شوہر بھی کمینی باتیں کرتا ہے باہر اور اپنے دوستوں اور اردگرد کے ماحول میں تعلقات کے دائروں میں اس شخص کا مرتبہ گرنا شروع ہو جاتا ہے۔پس ایسے لوگوں کو بعض لوگ زن مرید کہتے ہیں۔زن مرید کا محاورہ عام طور پر تو اچھا نہیں مگر بعض دفعہ درست ہے اگر بد عورت ہو، بدیوں کی طرف بلانے والی ہو، غلط تکبر میں اور نخوت میں مبتلا ہوایسی عورت کا مرید خاوند حقیقت میں زن مرید کہلا سکتا ہے یعنی برے معنوں میں یہ لفظ اس پر چسپاں ہوتا ہے۔لیکن اس کے برعکس مرد بھی ہیں جو عورتوں کو طعنے دیتے ہیں اپنی بیویوں کو دیتے ہیں اور ان کے طعنے عجیب و غریب قسم کے ہیں جن کو جب میں پڑھتا ہوں بعض دفعہ تو طبیعت متلانے لگتی ہے کہ تم کس گھر سے آئی ہو تمہارا تو جہیز ہی ایسا تھوڑا تھا، ایسے غریب گھر کی توفیق ہی نہیں تمہیں ملی فلاں کا اتنا بڑا جہیز آیا، فلاں نے یہ چیز دی تم لوگ تو بڑے کمینے لوگ ہو، میں گیا تو مجھے ایک جوڑ دیاوہ بھی شاید پرانا تھا۔ایسی گھٹیا ذلیل باتیں بعض مرد اپنی بیویوں سے کرتے ہیں اور بیویاں ان کی روتی ہیں مجھے خط لکھتی ہیں بعض دفعہ تو میں ان سے کہتا ہوں کہ طلاق کے مسائل ایسے موقعوں کے لئے ہیں۔ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنا جس کی ساری زندگی ایک عذاب میں مبتلا ر ہے صرف قربانی نہیں ہے بلکہ معاشرے پر ظلم ہے، اپنی اولاد پر ظلم ہے کیونکہ ایسے بچے جو ایسے ماحول میں پیدا ہوں اور ایسے ماحول میں پرورش پائیں ان کی تربیت ضرور بگڑتی ہے، کبھی بھی صحیح متوازن تربیت والے بچے ایسے گھر میں نہیں پیدا ہو سکتے تو خواہ عورت کا قصور ہو خواہ مرد کا قصور ہو جہاں حسب و نسب کے طعنے دیئے جائیں، جہاں دولت یا دولت کے فقدان کے طعنے ہوں۔طعنہ زنی ویسے ہی بہت بے ہودہ چیز ہے مگر جن باتوں میں حضرت رسول اللہ اللہ