خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 753
خطبات طاہر جلد 13 753 خطبہ جمعہ فرموده 7 /اکتوبر 1994ء دینے لگیں۔ایسے جزیروں کی طرح جو ان میں رہتے ہوئے بھی ان سے الگ ہوں اور نہایت دلکش اخلاقی مناظر پیش کرتے ہوں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی اس مضمون میں جو متفرق نصائح ہیں ان میں سے بعض کا انتخاب میں پہلے کر چکا ہوں، بعض کا آج کے خطبے کے لئے انتخاب کیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ نے بیان فرمائی اور بخاری سے لی گئی ہے فرمایا اس کی طرف دیکھو جو تم سے کم درجے کا ہے، کم وسائل والا ہے، اس شخص کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر اور اچھی حالت میں ہے یہ شکر کا ایک انداز ہے۔صلى الله اب یہ بہت ہی مختلف الفاظ میں بہت گہری نصیحت ہے بہت سے انسانی تعلقات کے رخنے اس نصیحت کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اول تو یہ غور طلب بات ہے کہ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر حقارت سے دیکھتے ہیں۔اپنے سے او پر لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر حسد کے ساتھ دیکھتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے یہ کیوں فرمایا کہ اپنے سے نیچے کو دیکھو اور اوپر کونہ دیکھو۔یہ کیوں نہ فرمایا کہ اپنے سے نیچے کو دیکھو تو حقارت سے نہ دیکھو بلکہ محبت سے دیکھو۔دوسری جگہ فرمایا ہے یہاں یہ نہیں فرمایا۔اگر آپ غور کریں تو اس میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کی بے حد گہری فراست کی روشنی ملتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ جو شخص نیچے دیکھے اور حقارت سے دیکھ رہا ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ اوپر حسد سے نہ دیکھے کیونکہ جو نیچے حقارت سے دیکھ رہا ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ اوپر حسد سے نہ دیکھے کیونکہ جو نیچے حقارت سے دیکھا ہے اس کو یہ برداشت ہی نہیں ہوسکتا کہ اس سے اوپر بھی کوئی خوش حال انسان ہے۔پس او پر نہ دیکھئے نے اس مضمون کے ایک طرف کو ایسا قطع کر دیا ہے کہ دوسرے حصے پر اس کی بہت ہی عمدہ روشنی پڑتی ہے اور ساری بات کی وضاحت ہو جاتی ہے۔اپنے سے نیچے دیکھو اور اوپر نہ دیکھو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو حسد کا مادہ رکھتے ہیں جو کسی کی خوشحالی سے جلتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اپنے سے کم تر لوگوں کی ضرورتوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور ان سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔ان کی طرف نہ دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اگر نظر ڈالیں گے تو حقارت کی نظر ڈالیں گے ورنہ ان کی پرواہ ہی کوئی نہیں کہ نیچے کون لوگ ہیں۔آنحضور نے فرمایا کہ جب تم دیکھو تو نیچے کی طرف دیکھو اور اوپر نہ دیکھو اس سے شکر پیدا ہوتا ہے۔اوپر اگر انسان دیکھتار ہے اور ان لوگوں کو دیکھے جو ان سے بالا ہیں ان کو خدا نے دولتیں اور