خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 751

خطبات طاہر جلد 13 751 خطبہ جمعہ فرموده 7 اکتوبر 1994ء سکتے ہیں اور اس طرح آمنے سامنے بیٹھ کر سب سے اجتماعی گفتگو ہو جائے گی۔امیر صاحب نے فرمایا ہے کہ اس کے بعد چند منٹ کے لئے خواتین میں بھی جانا ہوگا کیونکہ بہت سی خواتین ایسی ہیں جو بعد میں تشریف لائی ہیں ان کو بھی خواہش ہوگی کہ ان سے بھی گفتگو ہو جائے یہ تو حصہ ہے معذرت والا۔اب میں اس سلسلہ مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جس پر میں کچھ عرصے سے خطبات دے رہا ہوں۔ایک لمبے عرصے تک میں نے عبادات کے موضوع پر خطبے دیئے۔ان کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ان کی انسانی زندگی میں اہمیت کو واضح کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے تعلقات درست کئے بغیر اس زندگی کا کوئی بھی مقصد نہیں رہتا۔محض جانوروں کی طرح زندہ رہ کر، کھا پی کر مر جانا ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں اور یہی فرق ہے انسان اور حیوان میں کہ انسان کو وہ استعداد میں بخشی گئی ہیں ، وہ نورفر است عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ سے ایک باشعور رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ویسے تو ہر مخلوق کا خدا سے ایک رابطہ ہے اور کوئی مخلوق خواہ آپ اسے بے جان سمجھیں بے شعور سمجھیں اللہ سے رابطے سے عاری نہیں ہے اور اپنی اپنی توفیق کے مطابق جسے ہم نہیں سمجھ سکتے اللہ کی حمد کرتی ہے۔لیکن انسان اور باقی مخلوقات میں فرق یہ ہے کہ انسان وہ استعداد میں رکھتا ہے جس سے خدا تعالیٰ سے باشعور تعلق قائم کر سکتا ہے جیسے انسان کا انسان سے تعلق ہوتا ہے۔یہ لمبا سلسلہ ہے جس کو انشاء اللہ جب نارتھ امریکہ میں ٹیلی ویژن کا کام جاری ہو جائے گا تو پھر ہم مناسب وقت میں سلسلہ وار دوبارہ شروع کریں گے کیونکہ آپ میں سے بھاری اکثریت ایسی ہے جو وہ خطبے نہیں سن سکی، ان کے لئے ممکن نہیں تھا لیکن وہ ضرورت بہت ہے کیونکہ اللہ سے تعلق استوار کئے بغیر انسان سے صحیح معنوں میں تعلق استوار نہیں ہو سکتے۔تو یہ جو حصہ ہے یہ تو آپ آئندہ انشاء اللہ ایک دو ماہ کے اندر سلسلہ وارسن سکیں گے لیکن آج کل میں جس موضوع پر گفتگو کر رہا ہوں وہ انسانوں سے انسانوں کے تعلقات کا مضمون ہے جس کا گہرا تعلق اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ساتھ ہے۔ایک انسان جو خدا سے تعلق رکھتا ہے اس کے خدا سے تعلق کے حالات تو اکثر ہم پر پوشیدہ رہتے ہیں لیکن خدا سے تعلق کے نتیجہ میں وہ بنی نوع انسان سے جیسے تعلقات رکھتا ہے وہ ہمیں دکھائی دینے لگتے ہیں اور وہ ایک ایسی چیز ہے جسے چھپایا نہیں جاسکتا۔اور وہی معاملات ہیں جن سے انسان کا باخدا یا بے خدا ہونا معلوم کیا جا سکتا ہے۔ان تعلقات سے وہ رسمی تعلقات مراد نہیں جو مہذب